خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 88 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 88

خطبات محمود سال ۱۹۳۵ء پھیلا لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ رسول کریم ﷺ کی پیشگوئی پوری نہیں ہوئی جب آپ کے کسی شاگرد کے ذریعہ پیشگوئی پوری ہو تو وہ آپ کی سمجھی جائے گی۔آج اگر خدا تعالیٰ میرے ذریعہ امریکہ و افریقہ میں اسلام کو پھیلاتا ہے تو یہ کام میرا نہیں مسیح موعود علیہ السلام کا ہے اور آپ کا نہیں بلکہ رسول کریم ﷺ کا ہے۔قرآن آپ لائے اور وہ آپ کے ہی دلائل ہیں جو اشاعت کا باعث بنتے ہیں۔پس قرآن کریم کی یہ رسول کریم ﷺ کے متعلق پیشگوئی تیرہ سو سال کے بعد پوری ہونی شروع ہوئی ہے جسے دیکھتے ہوئے ہمیں یقین ہے کہ اب یہ پوری ہو جائے گی مگر با وجود اس کے خدا تعالیٰ کا کلام سچا ہے کیونکہ اس کا آپ کے ذریعہ پورا ہونا بھی آپ کا ہی کام ہے پس اللہ تعالیٰ نے پیشگوئیوں میں میرے جو کام بتائے ہیں وہ ممکن ہے میرے ہاتھ سے ہی ہوں یا ممکن ہے میرے شاگردوں کے ہاتھوں سے ہوں اور اگر ایسا ہو تو بھی پیشگوئیوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا دیکھنے والی بات صرف یہ ہے کہ اس کا ظہور مجھ سے ہوا یا نہیں اور جو شخص بھی اس بارہ میں غور کرے گا اسے معلوم ہوگا کہ یہ ہو چکا ہے۔قوموں کی رستگاری اور آزادی میرے ذریعہ ہوئی۔احمدیت کی اشاعت ، نظام جماعت میرے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے قائم کیا ، جماعت کی شدید مخالفتوں کے مقابل پر اس نے مجھے اولوالعزم ثابت کیا ، جب حضرت خلیفہ مسیح الاوّل کی وفات پر خطرناک فتنہ پیدا ہوا تو اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کے دبانے کی توفیق دی ، پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا درجہ کم کرنے کی جو کوششیں پیغامیوں نے کیں ان کا کامیاب مقابلہ کرنے کی اللہ تعالیٰ نے مجھے توفیق دی اور اس کے لئے ما فوق العاوت اور معجزانہ عزم مجھے بخشا اور اسطرح اولو العزم کی پیشگوئی میرے متعلق پوری ہوگئی پھر دوسری خلافت پر مجھے متمکن کر کے اللہ تعالیٰ نے فضل عمر والی پیشگوئی کو بھی پورا کر دیا۔حضرت عمرؓ کی تلوار سے جس طرح اسلام کے دشمن گھائل ہوئے اسی طرح میرے دلائل کی تلوار سے ہوئے اور اس طرح بھی یہ پیشگوئی پوری ہوئی ، پھر جس طرح حضرت عمرؓ کے زمانہ میں مختلف بلاد میں اسلام پھیلا اسی طرح میرے زمانہ میں بھی اللہ تعالیٰ نے سلسلہ کے نام اور اسکی شہرت کو دنیا کے کناروں تک پہنچادیا اور اس طرح بھی یہ پیشگوئی پوری فرما دی۔پھر میرے ذریعہ جماعت کا نظام قائم کر کے بھی اللہ تعالیٰ نے یہ پیشگوئی پوری فرمائی وغیرہ وغیرہ۔اب اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت چاہے کہ بقیہ حصے ان لوگوں کے ذریعہ پورے ہوں جو بچے طور پر میری بیعت میں شامل ہیں تو اس سے پیشگوئی پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ