خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 842 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 842

خطبات محمود ۸۴۲ سال ۱۹۳۵ء وہ یہ نہ دیکھیں کہ اُن کا سیکرٹری اور پریذیڈنٹ کیا کرتا ہے بلکہ اگر سیکرٹری یا پریذیڈنٹ ستی کرتا ہے تو خود اُس کی بجائے کام کریں ، اُس وقت تک حقیقی معنوں میں ترقی نہیں ہو سکتی۔میں نے دیکھا ہے کہ جس جماعت کے سیکرٹری یا پریذیڈنٹ صاحب خود چندہ نہ دینا چاہیں وہ کام کو پیچھے کرتے چلے جاتے ہیں۔حالانکہ اگر جماعت کا ہر فرد اپنے آپ کو سلسلہ کے کاموں کے لئے سیکرٹری اور پریذیڈنٹ سمجھے تو وہ اپنے سیکرٹری یا پریذیڈنٹ کی سستی کی وجہ سے ثواب سے محروم نہ رہے بلکہ اگر وہ سست ہوں تو اُن کی بجائے آپ جماعت میں چندہ کی تحریک شروع کر دے اور سیکرٹری اور پریذیڈنٹ کے کاموں کا بھی خود ثواب لے لے۔میں نہیں سمجھ سکتا اگر تحریک جدید کے چندہ کے فارم لے کر کوئی شخص چل پڑے اور لوگوں سے وعدے لینا شروع کر دے تو اسکے متعلق کوئی شخص کہہ سکے کہ یہ مجرم ہے ، سیکرٹری یا پریذیڈنٹ کو یہ کام کرنا چاہئے تھا۔اگر سیکر ٹری یا پریذیڈنٹ چاہتا ہے کہ ثواب لے تو اُس کا فرض ہے کہ دوسروں سے پہلے کام کرے۔اور اگر وہ کام نہیں کرتا اور جماعت کا کوئی اور فر دلوگوں سے چندہ لینا یا چندے کے وعدے لکھوانا شروع کر دیتا ہے تو خدا تعالیٰ کے نزدیک وہی سیکرٹری اور وہی پریذیڈنٹ ہے۔غرض تحریکیں ہی کتنی اعلیٰ ہوں جب تک کام نہ شروع کیا جائے اور اُس میں سرگرمی نہ دکھائی جائے کوئی فائدہ نہیں ہوسکتا۔پس اپنے اندر وہ آگ پیدا کر و جو تمہیں انجن بنا دے۔تم بیل گاڑی نہ بنادے۔بنو جو بیلوں کی محتاج ہوتی ہے بلکہ تم انجن بنو جو دوسروں کو بھی کھینچ کر لے جاتا ہے۔جس دن اس قسم کے لوگ جماعت میں پیدا ہو جائیں گے تمام کام خود بخود سہولت سے ہوتے چلے جائیں گے۔میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ رمضان کے پاک اور مقدس مہینہ کے طفیل ہماری جماعت کی غفلت اور ستی کو دور کرے اور ہر شخص میں یہ روح پیدا کرے کہ وہ اپنے آپ کو دنیا میں خدا تعالیٰ کا نمائندہ اور دینی خدمت کا ذمہ دار سمجھے۔دیکھو! خدا تعالیٰ نے خاص طور پر بعض کو خلفا ءقرار دیا ہے مگر ایک جگہ یہ بھی فرماتا ہے کہ جَعَلْنَا كُمْ خَلَائِفَ فِي الْأَرْضِ کے تم میں سے ہر ایک خدا کا خلیفہ ہے پس تم کیوں سمجھتے ہو کہ سلسلہ کے کاموں کا فلاں ذمہ دار ہے اور تم نہیں۔تم بھی ان کاموں کے ذمہ دار ہو اور دوسرے بھی۔اور میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ یہ احساس تم میں پیدا ہو کہ تم میں سے ہر شخص خدا تعالیٰ کی قدرتوں اور اس کے جلال کا زندہ نمونہ ہے اور اُسی کا فرض ہے کہ وہ دنیا کو آستانہ اسلام