خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 827 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 827

خطبات محمود ۸۲۷ سال ۱۹۳۵ء تھی کہ وہ لوگ جنہیں خدا تعالیٰ نے کسی قسم کی فوقیت دی ہے ، خواہ علم کے لحاظ سے خواہ پیشہ کے لحاظ سے خواہ ملازمت کے لحاظ سے ، وہ اپنے نام لکھا ئیں تا انہیں وعظوں اور لیکچروں کے لئے مختلف مقامات کے جلسوں پر بھیجا جا سکے۔مجھے افسوس ہے کہ میری اس تحریک پر بہت کم لوگوں نے اپنے آپ کو پیش کیا۔میں یہ نہیں کہتا کہ لوگوں نے اپنے آپ کو پیش نہیں کیا ، پیش کیا مگر بہت کم۔اور پھر افسوس ہے کہ جن لوگوں نے اپنے آپ کو پیش کیا ہم اُن سے صحیح رنگ میں فائدہ نہ اٹھا سکے۔وجہ یہ ہوئی کہ یہ تمام نام دفتر تحریک جدید میں درج کئے گئے اور چونکہ دفتر تحریک جدید کا کام جلسے کرانا اور لیکچروں کے لئے لوگوں کو بھیجنا نہیں بلکہ یہ کام دعوۃ و تبلیغ کا ہے ، اس لئے یہ کام نہ ہو سکا۔اب میں ایک تو دفتر تحریک جدید کو ہدایت کرتا ہوں کہ وہ ایسی تمام فہرستیں دعوۃ و تبلیغ کے دفتر بھجوا دے اور دوسرے میں دعوت و تبلیغ والوں کو ہدایت کرتا ہوں کہ وہ ان لوگوں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھانے کی کوشش کریں لیکن چونکہ یہ کام ایک عرصہ سے ہماری جماعت کے ذہن سے اُترا ہوا تھا اس لئے میں دعوۃ وتبلیغ والوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ لوگوں سے تدریجاً کام لیں۔اگر انہوں نے پہلے ہی یکدم لوگوں پر بوجھ ڈال دیا تو جنہوں نے اپنے آپ کو پیش کیا ہے وہ اس کی برداشت نہ کر سکیں گے اور کام کرنا چھوڑ دیں گے چونکہ ہماری جماعت کے افراد کے لئے یہ نیا کام ہوگا اس لئے آہستہ آہستہ اس کی انہیں عادت ڈالی جائے۔پہلے کسی ایک جلسہ پر انہیں بھیجا جائے کچھ مدت کے بعد دو جلسوں پر ان سے لیکچر دلائے جائیں۔اسی طرح تدریج کے ساتھ ترقی کی جائے اور یکدم بار نہ ڈالا جائے۔اگر اس طرح کام لیا گیا تو تھوڑے ہی عرصہ کے بعد لوگ کام کرنے کے عادی ہو جائیں گے اور پھر اس قدر انہیں شوق پیدا ہو جائے گا کہ وہ خود کہیں گے ہمیں کسی جلسہ پر لیکچر کے لئے بھیجا جائے۔میں نے دیکھا ہے خواجہ کمال الدین صاحب لیکچر دیا کرتے تھے۔ہمیں اُن کے لیکچروں پر کتنا ہی اعتراض کیوں نہ ہو چونکہ وہ وکالت کی پریکٹس چھوڑ کر لیکچر دیا کرتے تھے اس لئے لوگوں پر علماء کے لیکچروں سے اُن کے لیکچر کا زیادہ اثر ہوتا تھا۔اور وہ بات چاہے کتنی ہی غلط کہتے لوگ کہتے ایک کامیاب وکیل اپنا پیشہ چھوڑ کر جو تبلیغ کر رہا ہے اس کی باتیں تو جہ سے سننی چاہئیں پس کوئی وجہ نہیں کہ ہم دین کے لئے وہ تمام ذرائع اختیار نہ کریں جو خدا تعالیٰ نے ہمارے لئے پیدا کئے ہیں۔میں ایک طرف تو دعوۃ وتبلیغ والوں کو ہدایت کرتا ہوں کہ جن لوگوں نے اس سلسلہ میں اپنے نام پیش کئے ہیں ، اُن کی لسٹ دفتر تحریک جدید