خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 793 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 793

خطبات محمود ۷۹۳ سال ۱۹۳۵ء بھی سارا مہمانوں کے لئے خالی کر دیا جاتا ہے ، اوپر کے حصہ کا بھی بہت سا حصہ فارغ کر دیا جاتا ہے اور ہمارے گھر کے آدمی جو خدا کے فضل سے چالیس پچاس ہیں سمٹ کر چند کمروں میں آ جاتے ہیں۔اس دفعہ دار الحمد میں میں نے اپنے بعض رشتہ داروں کے لئے انتظام کیا ہوا تھا اور جب مجھ سے کارکنوں نے لسٹ مانگی تو میں نے کہلا بھیجا تھا کہ فلاں فلاں جگہ پر فلاں فلاں مہمان ٹھہریں گے باقی جگہ وہ لے سکتے ہیں لیکن اب میں یہ کہتا ہوں کہ جو جگہ رشتہ دار مہمانوں کے لئے میں نے مخصوص کر دی تھی اگر اس جگہ کے متعلق بھی کارکن کوئی معقول تبدیلی کرنا چاہیں تو میری طرف سے انہیں اجازت ہے۔اس کے بعد میں کام کے متعلق یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہر سال قادیان کی آبادی جس نسبت سے بڑھتی ہے اس نسبت سے آنے والوں کی تعداد میں اضافہ نہیں ہوتا اور اس لئے کوئی وجہ نہیں کہ زیادہ اور اچھے کا رکن نہ مل سکیں۔اور اگر کارکن میسر نہیں آتے تو اس کا مطلب سوائے اس کے کچھ نہیں کہ یا تو نظام میں کوئی نقص ہے یا دوستوں کے اخلاص میں کمی آگئی ہے۔اگر اچھے اور زیادہ کارکن باوجود یکہ گزشتہ چند سالوں میں قادیان کی آبادی پانچ ہزار سے بڑھ کر آٹھ ہزار تک پہنچ گئی ہے حاصل نہ ہوں تو یقیناً ان دونتائج میں سے ایک کو صحیح سمجھنے پر میں مجبور ہوں۔یا تو یہ کہ ہمارے نظام میں کوئی نقص ہے اور یا پھر یہ کہ جماعت کے اخلاص میں کمی آگئی ہے۔جس طرح مکانوں کی وقت کی وجوہ میں نہیں سمجھ سکتا اسی طرح یہ بات بھی میری سمجھ میں نہیں آتی کہ کام کرنے والے کیوں نہیں ملتے اور اگر کوئی روک فی الواقع ایسی پیش آ رہی ہے تو کارکنوں کا فرض ہے کہ تفصیل سے اسے میرے سامنے پیش کریں تا میں اندازہ کر سکوں کہ اصل سبب کیا ہے۔اس کے بعد میں عام نصیحت کرتا ہوں اور پہلے اُن لوگوں کو مخاطب کرتا ہوں جو بعد میں آکر بسے ہیں اور انہیں کہتا ہوں کہ تمہارے قادیان میں آکر بسنے سے پہلے تھوڑی سی جماعت ہزاروں مہمانوں کی خاطر تواضع کرتی تھی۔اور اگر تمہارے وقت میں اس میں کمی آجائے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ تمہارے اندر وہ اخلاص نہیں جو پہلوں میں تھا لیکن اگر بعد میں آنے والے اخلاص کا نمونہ دکھا رہے ہیں تو میں اُنہیں مخاطب کر کے جو دیر سے قادیان میں بس رہے ہیں کہتا ہوں کہ مؤمن کے اخلاص کے لئے کوئی حد بندی نہیں ہو سکتی اور موت تک اُس کے اخلاص میں کوئی فرق نہیں آنا چاہئے۔اگر اس کے اخلاص میں کوئی کمی واقع ہوئی تو اسے سمجھ لینا چاہئے کہ اس نسبت سے اُس کے ایمان میں بھی کمی واقع