خطبات محمود (جلد 16) — Page 777
خطبات محمود وہ عذرات تراشنے لگ جاتا ہے بلکہ کام کر کے دکھا دیتا ہے ۔ اہے دیتا۔ سال ۱۹۳۵ء ہمارے ملک میں یہ ایک عام نقص ہے کہ جب کسی شخص کو کسی مجرم پر پکڑا جاتا ہے تو عذر کرنے لگ جاتے ہیں ۔ حالانکہ عذر کوئی چیز نہیں مؤمن کا فرض ہے کہ وہ کام کر کے دکھائے اور اگر کامیاب نہیں ہو سکا تو اُس کی سزا بھگتے ۔ میرے ساتھ ایسا ہی ایک دفعہ معاملہ ہوا۔ میں اپنے متعلق سخت الفاظ سننے کا عادی نہیں اور میں ایک ایسی قوم سے ہوں جو اپنی بے عزتی کو کبھی برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں برداشت ہوئی لیکن ایک غلطی کی وجہ سے مجھے اس کا خمیازہ بھگتنا پڑا۔ حضرت خلیفہ امسیح الاوّل آخری جلسہ سالانہ پر جس کے بعد آپ کی وفات ہو گئی ، تقریر فرمانے کے لئے مسجد نور جانا چاہتے تھے ۔ آپ چونکہ اُن دنوں بیمار تھے اور زیادہ چل نہیں سکتے تھے اس لئے آپ نے خواہش ظاہر کی کہ آپ کے ۔ پ کے لئے گاڑی کا انتظام کر دیا جائے ۔ گاڑی اُس وقت صرف نواب محمد علی خان صاحب جاگیردار کے پاس تھی ۔ حضرت خلیفہ اول خود اُن سے طلب فرما سکتے تھے مگر آپ عادتاً سوال کرنے سے احتراز کرتے تھے مگر چونکہ نواب صاحب میرے بہنوئی اور رشتہ دار تھے اس لئے آپ نے یہ سمجھ کر کہ میرا اُن سے مانگنا سوال نہیں کہلا سکتا مجھے فرمایا کہ میاں ! میں تو نہیں مانگتا تم میرے لئے گاڑی کا انتظام کرا دو میں نے نواب صاحب کو کہلا بھیجا اور اُنہوں نے گاڑی بھیج دی جس وقت آپ اُتر کر مسجد تشریف لے گئے تو گاڑی بان نے دریافت کیا کہ میں یہاں کھڑا رہوں یا چلا جاؤں ۔ مولوی محمد علی صاحب پاس کھڑے تھے ان سے میں نے دریافت کیا اُنہوں نے اس خیال کے ماتحت کہ دو گھنٹہ تک تقریر ہو گی یہ کہاں ٹھہرا رہے مجھے کہا کہ آپ اسے کہہ دیں چلا جائے اور دو گھنٹہ کے بعد آ جائے میری یہ شامت اعمال تھی یا بے وقوفی میں نے اُسے کہہ دیا کہ دو گھنٹہ کے بعد آنا ۔ حضرت خلیفہ اول تقریر فرمانے لگے تو پندرہ ، ہیں منٹ کے بعد ہی آپ کی طبیعت خراب ہو گئی اور آپ نے فرمایا اب مجھ سے بولا نہیں جاتا۔ میں واپس چلا جاتا ہوں ۔ میں نے آدمی دوڑایا کہ جلدی گاڑی لاؤ مگر آخر گھوڑوں کے جو تنے اور گاڑی کے تیار کرنے میں دیر لگتی ہے گاڑی وقت پر نہ پہنچی اور حضرت خلیفہ اول مسجد سے پیدل ہی وانہ ہو پڑے۔ آپ نے راستہ میں فرمایا ، د استہ میں فرمایا ، دیکھو میاں ! میں نے تم نے تمہیں کہا تھا کہ گاڑی کا انتظام کرو مگر افسوس تم نے انتظام نہ کیا ۔ میں نے اس پر عذر کرنا چاہا مگر بات شروع ہی کی تھی کہ خلیفہ اول فرمانے لگے ۔ ” من حرامی حجتاں ڈھیر اور میں خاموش ہو گیا ۔ اتنے میں گاڑی بھی آگئی اور آپ دو