خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 773 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 773

خطبات محمود ۷۷۳ سال ۱۹۳۵ء سکتے ۔ اسی وجہ سے شروع میں مؤلفة القلوب سے خاص سلوک کرنے کا اسلام میں حکم ہے ۔ اور قرآن مجید میں بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ كُونُوا رَبَّانِيِّينَ تم ربانی بن جاؤ ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا کہ ربانی کے کیا معنے ہیں ؟ آپ نے فرمایا عَلِمُوا صِغَارَ الْعِلْمِ قَبْلَ كِبَارِهَا ۔ یعنی ربانی ہونے کا یہ مطلب ہے کہ علوم میں سے جو چھوٹے ہیں وہ پہلے سکھاؤ اور بڑے بعد میں ۔ تو ہمیشہ تدریج کے ساتھ ترقی ہوتی ہے ۔ مگر اس کے لئے ضروری ہے کہ تربیت ہو۔ اگر تربیت نہ ہو تو وہی عادتیں جن کا چھڑانا ضروری ہے ، انسانی طبیعت میں راسخ ہو جائیں گی اور کبھی پیچھا نہیں چھوڑیں گی ۔۔ ان امور پر غور کرنے کے بعد میں نے ضروری سمجھا کہ جماعت کے تمام افراد خصوصاً نو جوانوں میں استقلال اور ہمت اور قربانی کی روح پیدا کرنے کے لئے ” احمد یہ کور“ قائم کی جائے ۔ دنیا میں کوریں جو قائم کی جاتی ہیں وہ ضروری نہیں کہ فوجیں ہوں ۔ بلکہ ان میں سے بعض کے قائم کرنے سے صرف یہ غرض ہوتی ہے کہ جو باقاعدگی اور پابندی اوقات کی عادت فوجیوں میں ہوتی ہے وہی عادت قوم کے نوجوانوں میں بھی پیدا کی جائے ۔ بعض افسر اس پر خواہ مخواہ چڑتے ہیں حالانکہ اگر اس رنگ میں اخلاق کی درستی ہو جائے تو اس میں خود حکومت کا فائدہ ہے ۔ کیونکہ جب نوجوانوں کے اخلاق درست ہوں گے تو ملک کے فسادات دور ہو جائیں گے اور حکومت کی پریشانیاں کم ہو جائیں گی ۔ پس یہ چھوٹے دماغ والے افسر ہوتے ہیں جو ان باتوں پر چڑتے ہیں ورنہ ولایت میں بوائے سکاؤٹ کی تحریک ایسی مقبول ہے کہ قریباً ہر حکومت اس کی تائید کر رہی ہے ۔ اور اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ جانتے ہیں فوج کی نقل کرنے سے کوئی فوج نہیں بن جاتی بلکہ اگر فرض بھی کر لیا جائے کہ کوروں کے قائم کر ۔ قائم کرنے سے حکومت کا مقابلہ مقصود ہے تو بھی جبکہ حکومت کے پاس بندوقیں ، رائفلیں ، تو ہیں اور خطر ناک گیسیں موجود ہیں چند لاٹھیوں سے پریکٹس کرنے والوں سے اُسے کیا خطرہ ہو سکتا ہے۔ پس اول تو یہ ضروری نہیں کہ جو کور بنائے اُس کا مقصد حکومت کا مقابلہ کرنا ہو ۔ لیکن اگر اسے رست بھی تسلیم کر لیا جائے تو جبکہ حکومت کے پاس ہوائی جہاز ، بم اور زہریلی گیسیں - یسیں ہیں ۔ اُسے ان معمولی باتوں سے کیا خوف ہو سکتا ہے ۔ وہ ایک گیس سے سارے علاقے کو بیہوش کر سکتی ہے ۔ ایک بم پھینک کر گاؤں کا گاؤں برباد کر سکتی ہے ۔ بلکہ میں سمجھتا ہوں بموں کی بجائے اگر ہوائی جہازوں سے لوگوں پر پتھر گرانے بھی شروع کر دیئے جائیں یا مٹی کے ڈلے لوگوں پر گرائے جائیں تو اتنی سی بات پر