خطبات محمود (جلد 16) — Page 762
خطبات محمود ۷۶۲ سال ۱۹۳۵ء لئے کم رقم بچتی ہے مگر پھر بھی تعلیمی وظائف وغیرہ ملا کرتیں ، پینتیس ہزار کی رقم صرف ہوتی ہے مگر اتنی بڑی جماعت کے لحاظ سے یہ پھر بھی کم رہتی ہے ۔ اور کمی کی وجہ سے کئی لوگ تکلیف اُٹھاتے ہیں کئی شکوے بھی کرتے ہیں حالانکہ مؤمن کو شکوہ کبھی نہیں کرنا چاہئے ۔اسے چاہئے کہ بجائے دور و پے نہ مل سکنے کا شکوہ کرنے کے ایک جو ملا ہے اُس کا شکر کرے ۔ بہر حال غرباء کو پوری امداد نہیں دی جاتی اور نہ دی جاسکتی ہے اور اس کی وجہ قلتِ سرمایہ ہے پس اس تکلیف کا اصل علاج یہی ہے کہ بیکاری کو دور کیا جائے۔ میں نے اس کے لئے ایک کمیٹی بھی بنائی تھی مگر اُس نے اپنا کام صرف یہی سمجھ رکھا ہے کہ درخواستوں پر امداد دیئے جانے کی سفارش کر دے حالانکہ یہ کام تو میں خود بھی آسانی سے کر سکتا تھا مگر غرباء چونکہ مجھ سے زیادہ ملتے اور اپنے حالات بیان کرتے رہتے ہیں اس لئے ان سے بہتر طور پر کر سکتا تھا پس امدادی رقم کی تقسیم کے لئے کسی امداد کی تو مجھے ضرورت نہیں ۔ میری غرض تو یہ تھی کہ بیکاروں کے لئے کام مہیا کیا جائے اس لئے میرا ارادہ ہے کہ اس شعبہ کو بھی تحریک جدید میں ہی شامل کر دیا جائے اور اس کے لئے بھی ایک ایسے آدمی کی ضرورت ہوگی جو اپنے آپ کو غرباء کی امداد اور ان کے لئے کام مہیا کرنے کے لئے وقف کر دے یہ بھی مبلغ سے کم ثواب کا کام نہیں ۔ جو کام بھی سپرد کر دیا جائے وہی کرنا موجب ثواب ہے ۔ اگر کسی شخص کو کسی جگہ مدرس مقرر کر دیا جاتا ہے تو یہ نہیں کہ وہ تو اب میں مبلغ سے کم رہے گا یا مثلاً بورڈ نگ تحریک جدید کا انچارج ہے بوجہ اس کے کہ اس کا کام دین کی خدمت کے لئے ایک نئی نسل پیدا کرنا ہے ، یہ مبلغ کے کام سے کم اہمیت نہیں رکھتا بلکہ اچھی طرح کیا جائے تو مبلغ سے بھی زیادہ ثواب حاصل کیا جا سکتا ہے ۔ اسی طرح غرباء کو کام پر لگانے میں امداد کرنا اور اس سلسلہ میں جو روپیہ اس کے سپرد کیا جائے اُسے ٹھیک طور پر استعمال کرنا کوئی کم ثواب کا موجب نہیں بلکہ اس وجہ سے کہ اس میں ہزاروں غرباء کی دعائیں ملیں گی زیادہ ثواب کا موجب ہو سکتا ہے ۔ پس وقف کنندگان کو اگر تعلیم پر یا کسی اور کام پر لگا دیا جائے تو انہیں یہ خیال نہیں کرنا چاہئے کہ ہمارا تو اب کہاں گیا ؟ مثلاً میں نے ان میں سے ایک کو تحریک جدید کے بورڈنگ کا سپرنٹنڈنٹ بنایا ہے وہ اگر بچوں کی اصلاح اور تربیت کے لئے رات دن ایک کرے تو وہ سینکڑوں مبلغوں میں چنندہ مبلغ کے برابر ثواب حاصل کر سکتا ہے ۔ امداد بیکاران کے متعلق میرا ارداہ یہ ہے کہ رأس المال کو خرچ نہ کیا جائے بلکہ بعض نفع مند کاموں پر روپیہ لگا کر جو نفع حاصل ہو وہ اس مد میں خرچ کیا جائے