خطبات محمود (جلد 16) — Page 759
خطبات محمود ۷۵۹ سال ۱۹۳۵ء کے بغیر تبلیغ کر سکتے تھے تو وہ فوراً بول اُٹھا کہ اب آپ کوئی جگہ بتا دیں میں وہاں چلا جاؤں گا۔اس نوجوان کی والدہ زندہ ہے لیکن وہ اس کے لئے بھی تیار تھا کہ بغیر والدہ کو ملے دوسرے کسی ملک کی طرف روانہ ہو جائے مگر میرے کہنے پر وہ والدہ کو ملنے جا رہا ہے۔اگر دوسرے نو جوان بھی اس پنجابی کی طرح جو افغانستان سے آیا ہے ہمت کریں تو تھوڑے ہی عرصہ میں دنیا کی کا یا پلٹ سکتی ہے۔روپیہ کے ساتھ مشن قائم نہیں ہوتے۔اس وقت جو ایک دومشن ہیں اُن پر ہی اس قدر رو پیہ خرچ ہو رہا ہے کہ اور کوئی مشن نہیں کھولا جا سکتا۔لیکن اگر ایسے چند ایک نوجوان پیدا ہو جائیں تو ایک دو سال میں ہی اتنی تبلیغ ہو سکتی ہے کہ دنیا میں دھاک بیٹھ جائے اور دنیا سمجھ لے کہ یہ ایک ایسا سیلاب ہے جس کا رُکنا محال ہے۔مغل قوم جس ملک سے آئی وہاں غربت بہت تھی۔یہ لوگ عام طور پر شکار پر گزارہ کرتے تھے۔اُن میں سے چند لوگ باہر نکلے تو دولت دیکھی اور واپس آکر شور مچا دیا کہ دنیا میں اس قدر دولت ہے اور تم بھو کے مر رہے ہو۔یہ لوگ دولت کی خاطر اپنے ملک سے نکلے اور فرانس سے لے کر چین کی حدوں تک حکومت کی اور وہ لوگ جو بالکل وحشی تھے ایک صدی کے اندراندر بادشاہ بن گئے۔یہ اسلام سے پہلے کی بات ہے۔اسلام نے آکر ان کی اور بھی کا یا پلٹ دی۔ہاتھو خان ایک پرانے مغل فرمانروا کے متعلق انگریزی مؤرخین گین وغیرہ نے لکھا ہے۔کہ وہ جب یورپ فتح کر رہا تھا تو یورپ کے سارے بادشاہ اکٹھے ہو کر ڈینیوب کے کنارے اُسے ملے اور کہا کہ ہمارے بچے یتیم اور بیویاں بیوہ ہو جائیں گی آپ رحم کریں اور واپس چلے جائیں۔اسی طرح قبلی خان نے چین کو فتح کیا اور جاپان پر حملہ کیا مگر فتح اس واسطے نہ کر سکا کہ ساحل پر طوفان آ گیا اور بیڑے کا ایک حصہ غرق ہو گیا اور ایک حصہ کو ہوائیں چین کی طرف دھکیل لائیں۔تاہم اُس کا رُعب اتنا ہوا کہ جاپان کی عورتیں مغربی علاقہ میں باوجود اس کے کہ اس حملہ کو چار پانچ سو سال کا عرصہ ہو چکا ہے آج بھی اپنے بچوں کو اُس کا نام لے کر ڈراتی ہیں یہ وہ لوگ تھے جو روٹی کی خاطر گھروں سے نکلے۔تو کیا میں اپنے نوجوانوں سے اتنا مایوس ہو جاؤں کہ وہ دین کی خاطر بھی باہر نہیں نکل سکتے ؟ اگر ارادہ کر لو تو تم اتنے عظیم الشان کام کر سکتے ہو کہ دنیا تمہارے سامنے ہتھیار ڈال دے۔مؤمن کو صرف ارادہ کی ضرورت ہوتی ہے جس دن وہ ارادہ کر لے اُسی دن مال ، دولت ، عزت سب خود درخواستیں کرتی ہیں کہ ہمیں قبول کیا جائے اصل چیز رضائے الہی ہے اور اسی سے