خطبات محمود (جلد 16) — Page 752
خطبات محمود ۷۵۲ سال ۱۹۳۵ء کیونکہ ابلیس نے آدم کے نور کو روکنے کی کوشش کی تھی اور اُس نے محمد ﷺ کے نور کو روکنے کی کوشش کی ۔ پھر اس شخص سے اور ابلیس پیدا ہوئے اور ان سے اور یہاں تک کہ ان ابلیسوں کی تلبیس سے متاثر ہو کر مسلمان سو گئے اور پھر مر گئے ۔ جس طرح اس ابلیس سے بدتر انسان پر ساری دنیا کی لعنتیں پڑتی ہیں اور پڑتی رہیں گی ، اسی طرح جس دن کسی احمدی کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ اب جد و جہد کی ضرورت نہیں وہ اسلام کی دوبارہ موت کا موجب ہوگا ۔ اور ابلیسوں کی ایک اور نسل کیلئے بمنزلہ آدم کے ہو گا اور قیامت تک اُس پر لعنتیں پڑتی رہیں گی ۔ پس یہ خیالات دل سے نکال دو کہ یہ قربانیاں ایک دوسال کے بعد ختم ہو جائیں گی ۔ میرے منہ کی طرف مت دیکھو کہ میں ایک فانی وجود ہوں ۔ اپنے خدا کی طرف دیکھو جو ہمیشہ رہنے والا ہے ۔ جس طرح خدا نے تمہیں دائمی زندگی دی ہے اسی طرح تمہاری قربانیاں دائمی ہونی چاہئیں ۔ دائمی زندگی کے تم بھی مستحق ہو سکتے ہو جب تم دائمی قربانی کے لئے تیار رہو۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آریوں کے ایک اعتراض کا یہی جواب دیا ہے ۔ آریوں کا اعتراض ہے کہ انسان کے اعمال محدود ہیں پھر ان محدود اعمال کے نتیجہ میں دائمی اور ابدی انعام انعام کس طرح مل سکتا ہے ؟ ؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ بیشک انسانی اعمال محدود ہیں لیکن ان کے محدود رہنے کی وجہ یہی ہے کہ خدا تعالیٰ نے انسان کو مار دیا ورنہ مؤمن کب اپنے اعمال کو محدود کرنا چاہتا ہے وہ تو ہمیشہ کی قربانی کے لئے تیار ہوتا ہے ۔ پس جب اس کی نیت غیر محدود تھی اور وہ ہمیشہ کے لئے نیک اعمال بجالانے کی نیت کر چکا تھا اور غیر معمولی قربانی کے لئے تیار تھا موت اپنے لئے وہ خود نہیں لایا بلکہ خدا نے اسے موت دے دی ۔ تو غیر محدود قربانی کی نیت رکھتے ہوئے وہ غیر محدود جزا کا مستحق کیوں نہ ہو۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس جواب سے معلوم ہوتا ہے کہ دراصل مؤمن وہی ہے جو غیر محدود قربانی کے لئے تیار رہے ۔ جو مڑ مڑ کر پیچھے دیکھتا ہے کہ ٹھہرنے کا حکم ہوا ہے یا نہیں وہ کس طرح اپنے آپکو دائمی زندگی کا مستحق قرار دے سکتا۔ اس کی زندگی تو ایسی ہی ہے جیسے حدیثوں میں آتا ہے کہ قیامت کو بعض جانوروں کو بھی موقع دے دیا جائے گا کہ تھوڑی دیر تک کلیلیں کر لیں ۔ پس میں اس تحریک کے متعلق پھر یہ اعلان کر دیتا ہوں کہ جو اس میں میری خاطر شریک ہونا چاہتے ہیں اور اسے محدود خیال کرتے ہیں بہتر ہے کہ وہ آج ہی علیحدہ ہو جائیں ۔ کیونکہ میں ایک