خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 724 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 724

خطبات محمود ۷۲۴ سال ۱۹۳۵ء میں نے یہ شرط کی ہے کہ میرے سب مطالبات کی جن کے متعلق میں نے انعام مقرر کئے ہیں اکٹھی تحقیق کی جائے۔ایک ایک کو الگ الگ لینے کی اجازت نہ ہو گی سوائے اس صورت کے کہ احرار مطالبات میں سے بعض کے متعلق اپنی غلطی تسلیم کر کے باقیوں کے متعلق تحقیق پر آمادگی کا اظہار کریں۔وہ چھ باتیں ایسی ہیں جن پر اگر کوئی بھی شخص غور کرے تو وہ سمجھ سکتا ہے کہ آیا احرار فرار اختیار کر رہے ہیں یا ہم۔پس اس میں کسی لمبی چوڑی بحث کی ضرورت نہیں۔جو ثالث پیش کئے گئے ہیں وہ ان کے اپنے آدمی اور ان کے مسلمہ لیڈر ہیں۔اور پھر میں یہ نہیں کہتا کہ فیصلہ کے بعد روپیہ دیا جائے گا بلکہ میں یہ کہتا ہوں کہ جس وقت بھی احرار اس طریق فیصلہ کو منظور کر لیں اور لکھ دیں کہ پیش کردہ لیڈروں میں سے فلاں لیڈر کا فیصلہ منظور ہے اُسی وقت چھ سو روپیہ اُن صاحب کے حوالے کر دیا جائے گا اور انہیں اس امر کا اختیار دے دیا جائے گا کہ اگر ان پر یہ ثابت ہو جائے کہ میری غلطی تھی تو وہ رو پیدا احرار کے حوالے کر دیں۔اور اگر ثابت ہو کہ احرار غلطی پر تھے تو روپیہ ہمیں واپس کر دیں۔یہ ایک ایسا طریق فیصلہ ہے جس پر عقلاً کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا ممکن ہے وہ اس کے متعلق بھی کوئی بہانہ بنا ئیں اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ کیا بہانہ بنا ئیں۔لیکن ہمارا طریق چونکہ دیانت داری کا ہے اس لئے ہمیں کوئی اعتراض کی بات نہیں سوجھتی۔برخلاف اس کے ان کا کام چونکہ بد دیانتی ہے اس لئے ممکن ہے اس واضح طریق کے متعلق بھی کوئی شبہ وہ پیدا کر لیں۔اب میں اُن کے ایک اور سوال کو لیتا ہوں جو انہوں نے ابھی ابھی اُٹھایا ہے اور وہ یہ کہ اگر ہمیں قادیان میں اجتماع کرنے سے روکا گیا ہے تو کیا گورنمنٹ احمدیوں کے سالانہ جلسہ کو بھی رو کے گی ؟ میں سمجھتا ہوں جس وقت کسی انسان میں بے حیائی پیدا ہو جائے اُس وقت وہ تمام عقل ودانائی کی حدود کو توڑ دیتا اور ایسی ایسی باتوں پر اتر آتا ہے جو معمولی عقل و سمجھ رکھنے والے انسان کے نزدیک بھی مضحکہ خیز ہوتی ہے۔قادیان میں جو ہماری پوزیشن ہے اس سے احرار کو بھلا نسبت ہی کیا ہے۔قادیان ہمارا مقدس مقام ہے ، قادیان وہ مقام ہے جس کے متعلق خدا تعالیٰ کی وحی اور اس کے الہامات میں بڑی بڑی بشارتیں ہیں ، اور قادیان وہ مقام ہے جسے زمین و آسمان کے پیدا کرنے والے خدا نے امن اور ترقی کا مقام بنایا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وصیت کے ساتھ اسے جماعت احمدیہ کا مرکز