خطبات محمود (جلد 16) — Page 722
خطبات محمود ۷۲۲ سال ۱۹۳۵ء زیادہ اعلی چیزیں بھی موجود ہیں جنہیں قربان کرنے کے لئے لوگ تیار نہیں ہوتے۔چنانچہ میں نے کہا میرے یقین کی حالت یہ ہے کہ میں قرآن اپنے ہاتھوں میں لیتا ہوں اور اُس زندہ قادر اور طاقتور خدا سے جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اور جس کے ہاتھ میں میرا مستقبل ہے دعا کرتا ہوں کہ اے خدا! مجھے یقین ہے کہ یہ تیرا کلام ہے جو تو نے اپنے رسول پر نازل فرمایا اور جسے دنیا کی ہدایت کا آخری ذریعہ قرار دیا۔اے خدا! اگر میں اپنے اس عقیدہ میں جھوٹا ہوں اور لوگوں کو ناحق فریب دے رہا ہوں تو تو مجھ پر اپنی لعنت نازل کر۔نہ صرف مجھ پر بلکہ میری بیوی بچوں پر بھی۔اور نہ صرف اِس دنیا میں بلکہ اگلے جہان میں بھی۔کیا آپ بھی ویدوں کی سچائی کے متعلق اس قسم کی قسم کھا سکتے ہیں؟ میرے اس مطالبہ پر بجائے اس کے کہ وہ قسم کھاتے ، اُن کا رنگ زرد ہو گیا اور کہنے لگے آپ میرے بیوی بچوں کا ذکر کیوں کرتے ہیں؟ میں نے کہا اسی سے ظاہر ہے کہ آپ کے پاس کوئی ایسی چیز بھی ہے جسے آپ اپنی جان سے زیادہ عزیز اور قیمتی سمجھتے ہیں۔پس جب تک آپ اسے اپنے مذہب کے لئے قربان نہ کریں کس طرح سمجھا جا سکتا ہے کہ آپ کو اپنے مذہب کی صداقت پر یقین ہے۔میں بار بار یہ مطالبہ کروں مگر وہ یہی کہتے جائیں کہ آپ میرے بیوی بچوں کا ذکر کیوں کرتے ہیں۔تو بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں کہ ان کا نام سننے پر انسان کے دل میں خشیت پیدا ہو جاتی ہے۔اور اللہ تعالیٰ کا خوف اسے دامن گیر ہو جاتا ہے۔انہی میں سے ایک مباہلہ بھی ہے۔میرے دل میں ایک منٹ کے لئے بھی یہ خیال نہیں آ سکتا تھا کہ مسلمان کہلانے والوں میں سے ایک حصہ مباہلہ کو بھی لوگوں کو دھوکا دینے اور چالبازی کا ایک ذریعہ بنالے گا۔مگر یہ میرا یقین غلط نکلا۔اور وہ مسلمانوں کے لیڈر کہلانے والے جنہوں نے تھوڑے ہی دن ہوئے شہید گنج کے موقع پر مسلمانوں کے فوائد کو اپنے ذاتی مفاد کے لئے قربان کر دیا تھا اس سے ناجائز فائدہ اُٹھا کر یہ کہنا شروع کر دیا کہ ہم تو مباہلہ کے لئے تیار ہیں مگر قادیان میں کریں گے۔میں نے ان کے اس مطالبہ کو منظور کر لیا مگر ساتھ ہی لکھا ہے کہ انہیں چاہئے کہ تمام شرائط لکھ کر اور ان پر دستخط کر کے ہمیں دے دیں تا بعد میں کوئی اُلجھن پیدا نہ ہو سکے۔مگر باوجود اس کے کہ ہماری طرف سے انہیں کئی رجسٹریاں گئیں ایک دفعہ نہیں بلکہ تین دفعہ انہوں نے ان میں سے ایک کا بھی ہمیں جواب نہیں دیا۔ڈاک خانہ کی رسیدیں ہمارے پاس موجود ہیں اور وہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہماری طرف سے انہیں رجسٹر ڈ خطوط لکھے گئے مگر وہ ہر رجسٹری غائب کر گئے لیکن پبلک