خطبات محمود (جلد 16) — Page 721
خطبات محمود ۷۲۱ سال ۱۹۳۵ء مباہلہ کوئی ایسی چیز نہیں جس پر تمسخر اڑایا جا سکے بلکہ مباہلہ لعنت ہے جو ہمیشہ کے لئے انسان اپنے سر لیتا ہے۔نہ صرف اپنے لئے بلکہ آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے بھی۔اور مباہلہ لعنت ہے نہ صرف ایک منٹ ، اور ایک دن ، اور ایک سال کے لئے بلکہ آنے والے دنوں اور آنے والے سالوں کے لئے بھی اور مباہلہ لعنت ہے نہ صرف اس زندگی کے لئے بلکہ قبر کی زندگی کے لئے بھی۔اور مباہلہ لعنت ہے نہ صرف اس زندگی اور قبر کی زندگی کے لئے بلکہ یوم حشر اور قیامت کے دن کے لئے بھی کتنی دل کو دہلا دینے والی چیز ہے جو ان کے سامنے پیش کی گئی۔میں نے غیر مذاہب کے لوگوں کو دیکھا ہے کہ وہ بھی قسم کے نام پر کانپ جاتے ہیں۔ایک دفعہ میں شملہ گیا۔وہاں کی آریہ سماج کے اُس وقت کے سیکرٹری جو گر یجو یٹ تھے مجھ سے ملنے آئے۔باتوں ہی باتوں میں انہوں نے پوچھا احمدیت کونسی ایسی نئی چیز پیش کرتی ہے جو ہمارے مذہب میں نہیں۔میں نے کہا کہ احمدیت نے مجھے یقین کا مرتبہ دیا ہے جو کسی اور مذہب والے کو نصیب نہیں۔کہنے لگے کس طرح ؟ میں نے کہا مجھے اس بات پر یقین ہے کہ قرآن مجید ایک زندہ خدا کی کتاب ہے اور اس کی پیروی سے انسان کا خدا تعالیٰ سے کامل تعلق ہو جاتا ہے۔اس بات پر مجھے ایسا یقین ہے کہ جس کے بعد میرے لئے کوئی شک کی گنجائش نہیں۔اور میں اس سچائی کے لئے ہر بڑی سے بڑی قربانی کرنے کے لئے تیار ہوں انہوں نے کہا یہ کونسی بڑی بات ہے ہر مذہب والے کو اپنے مذہب کی سچائی پر یقین ہوتا ہے۔مجھے ویدوں کی سچائی پر یقین ہے ، عیسائیوں کو انجیل کی سچائی پر یقین ہے ، اور یہودیوں کو تو رات کی سچائی پر یقین ہے۔میں نے کہا جس چیز کو آپ یقین سمجھتے ہیں میں اُسے یقین نہیں سمجھتا بلکہ نفس کا دھوکا سمجھتا ہوں یقین وہی ہے جو مجھے اسلام کی صداقت کے متعلق حاصل ہے۔کہنے لگے کس طرح؟ میں نے کہا میں اس امر کو تسلیم کرتا ہوں کہ عیسائیوں ، ہندوؤں اور یہودیوں میں سے ایسے کئی ہیں جنہوں نے اپنے مذہب پر جان دے دی اور بظاہر یہ سمجھا جاتا ہے کہ انہیں اپنے مذہب کی سچائی پر کامل یقین ہے۔مگر یقین پہچاننے کا یہ طریق نہیں۔جان آخر کیا چیز ہے؟ اس دنیا کی ایک چیز ہے جسے آپ دوسری چیزوں پر قربان کر سکتے ہیں۔چنا نچہ کئی لوگ ملک کے لئے جانیں قربان کرتے ہیں ، کئی لوگ اپنی زمینوں کی حفاظت کے لئے جانیں قربان کر دیتے ہیں۔غرض اپنی جان قربان کر دینا کوئی ایسی اعلیٰ بات نہیں جس سے کسی کے یقین کا جائزہ لیا جا سکے بلکہ اس سے