خطبات محمود (جلد 16) — Page 720
خطبات محمود ۷۲۰ سال ۱۹۳۵ء بہت لوگ ہیں جو اس الہی کلام کو اپنے لئے روشنی اور نور نہیں بناتے اور اِس وجہ سے ہلاکت کے گڑھوں میں گر جاتے ہیں ۔ جھوٹ ، دھوکا اور فریب یہ لوگوں کے اس وقت لباس بن گئے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی خشیت دنیا سے مٹ گئی ہے ۔ ہر شخص اپنے دائیں اور بائیں اور آگے اور پیچھے یہ دیکھتا ہے کہ جو کچھ میں کہہ رہا ہوں اُس کا اِرد گرد کے لوگوں پر کیا اثر پڑتا اور وہ اس سے کیا نتیجہ اخذ کرتے ہیں ۔ مگر کوئی آسمان کی طرف نگاہ اُٹھا کر یہ نہیں دیکھتا کہ ایک قادر اور قیوم خدا جو اُس کی ہر حرکت سے آگاہ اور اُس کے ہر فعل سے باخبر ہے ، اُس کی نگاہ میں اس شخص کے افعال واقوال کیسے ہیں ۔ کہنے کو آجکل ہر شخص اپنے آپ کو خاکسار اور ذلیل اور عاجز اور نہ اور نہ معلوم کیا کچھ کہتا ہے بلکہ آجکل یہ طریق کتابت ہی ہو گیا ہے کہ لکھنے والا اپنے آپ کو خادم ، غلام اور بندہ قرار دیتا ہے لیکن دراصل ہر شخص کے دل کو کھول کر جب دیکھا جائے اُس کے حالات کا جائزہ لیا جائے اور اس کے جذبات کا مطالعہ کیا جائے تو یہی نظر آتا ہے کہ انسان اپنے سے زیادہ کسی اور کی قیمت سمجھنے کے لئے تیار نہیں ۔ خدا تعالیٰ کا اگر ذکر ہو تو وہ تمسخر کرتا ہے ، رسولوں کا ذکر ہو تو وہ تمسخر کرتا ہے ، الہامی کتابوں کا اگر ذکر ہو تو وہ تمسخر تم کرتا ہے خدا تعالیٰ کی پیدا کردہ مخلوق کا اگر ذکر ہو تو وہ تمسخر کرتا ہے اور نیک سے نیک اور پاک سے پاک بات کے ذکر میں بھی اس کا تمسخر بند نہیں ہوتا ۔ غرض ہنسی ٹھٹھا ،مخول ، منافقت ،فریب ، دھوکا اور دغا بازی اِس وقت دنیا کا شعار ہو رہا ہے۔ اور انسان ایسے گندے کیچڑ میں پھنسا ہوا ہے جس میں شاید ایک ستھرا جانور بھی قدم رکھنے کے لئے تیار نہ ہو۔ میں نے اسی مسجد میں ، اسی مقام پر کھڑے ہو کر احرار کو مباہلہ کا چیلنج دیا تھا کہ اگر ان کا یہ دعویٰ صحیح ہے کہ بانی سلسلہ احمد یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کیا کرتے تھے۔ اور یہ کہ جماعت احمد یہ کے نزدیک بانی سلسلہ احمدیہ کا درجہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ا۔ بڑا تھا۔ اور وہ اپنے اس یقین پر سچے دل سے قائم ہیں تو ہمارے ساتھ اس امر پر مباہلہ کر لیں ۔ اور خدا تعالیٰ سے دعا کریں کہ اگر وہ اپنے دعوی میں سچے ہیں اور دھوکا اور فریب سے کام نہیں لے رہے تو خدا تعالیٰ ان کی مدد کرے ۔ اور اگر وہ جان بوجھ کر ایک غلط بات جماعت احمد یہ اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کی طرف منسوب کر رہے اور لوگوں کو مغالطہ میں رکھ رہے ہیں تو خدا تعالیٰ ان پر اپنا عذاب نازل کرے۔ ۔