خطبات محمود (جلد 16) — Page 715
خطبات محمود ۷۱۵ سال ۱۹۳۵ء چنده قرآن کریم کا ترجمہ ایک زبان میں بھی شائع نہیں ہو سکتا اس کام کو تو روپیہ ہی پورا کر سکتا ہے۔ چین میں یہ کام شروع بھی ہو گیا ہے ۔ میچینگز آف اسلام یعنی تقریر جلسہ مہوتسو کا ترجمہ چینی میں ہو چکا ہے ۔ احمدیت اور دعوۃ الامیر کا ترجمہ جلد ہونے والا ہے اور قرآن کریم کے ترجمہ کے لئے بھی مناسب آدمیوں کی تلاش ہو رہی ہے ۔ انگریزی ترجمہ کی ٹائپ شدہ کا پی بھجوا دی گئی ہے تا اسے سامنے رکھ کر ترجمہ کریں ۔ عربی دان علماء بھجوانے کی تیاری ہو رہی ہے تا کہ ترجمہ کی صحت میں مدد دیں جاپان میں بھی جلد اسلامی کتب اور قرآن کریم کے ترجمہ کی کوشش کی جائے گی ۔ صوفی عبدالقدیر صاحب محنت سے جاپانی زبان سیکھ رہے ہیں تا کہ ترجمہ کی نگرانی کر سکیں ۔ ایک ماہ تک ایک تعلیم یافتہ مبلغ ادھر روانہ ہوگا تا کہ عربی زبان کی مشکلات میں مدد دے سکے ۔ غرض یہ سب اخراجات ہیں ۔ ادھر بورڈ نگ جدید کے اخراجات اور دفتر کے اخراجات کو بھی پہلے شامل نہ کیا گیا تھا مگر میرا ارادہ ہے کہ ہر سال ایک حصہ چندہ کا صدر انجمن احمد یہ کے نام کچھ تجارتی جائداد خرید نے پر لگا دیا جائے تا کہ مستقل اخراجات : پر نہ پڑیں بلکہ جائداد کی آمد سے ادا ہوں ۔ اس جائداد کی آمد صرف تحریک جدید کے کاموں پر خرچ کی جائے میں نے اس سال بھی کچھ روپیہ اس خیال سے لگایا تھا جس سے گیارہ بارہ سو روپیہ کا منافع انْشَاءَ اللہ ہوگا۔ لیکن یہ خیال بہت دیر کے بعد آیا ور نہ چھ سات ہزار کی آمد بہ سہولت پیدا کی جاسکتی تھی ۔ آئندہ سال اِنْشَاءَ اللہ اس کام کو اچھی طرح چلایا جائیگا اور اِنْشَاءَ اللہ دفتر تحریک جدید کے بورڈنگ کے اخراجات چندہ سے نہیں بلکہ تجارتی آمد سے چلاتے جائیں گے ۔ اور چندہ صرف ہنگامی کاموں کے لئے خرچ کیا جائے گا ۔ اس لئے اس سال میں پھر اس مالی تحریک کا اعلان کرتا ہوں لیکن ساتھ ہی دوستوں سے خواہش کرتا ہوں کہ وہ مالی قربانی میں پچھلے سال سے زیادہ حصہ لیں ۔ میں دیکھتا ہوں کہ پچھلے سال کی قربانی دشمنوں کے لئے حیرت انگیز تھی مگر میرے نزد یک بعض دوست زیادہ حصہ لے سکتے تھے مگر انہوں نے کم حصہ لیا ۔ اسی طرح ہندوستان سے باہر کی ہندوستانی جماعتوں نے اتنا حصہ نہیں لیا جتنا میرے نزدیک وہ لے سکتے تھے ۔ کئی دوستوں نے تین سو کو آخری حد سمجھا حالانکہ یہ زیادہ توفیق والوں کے لئے نیچے کی حد تھی اوپر کی حد نہ تھی مگر بعض نے بہت بڑی قربانی کا بھی ثبوت دیا چنانچہ انہوں نے اپنی آمد کا قریباً 1/4 حصہ علاوہ دوسرے چندوں کے اس تحریک میں دیا اور گل رقم چھبیس سو کی گزشتہ سال میں ادا کی ۔ یہ اعلیٰ درجہ کا اخلاص ہے ۔ ان کے ہاں اولاد نہیں ہے اور ان کا