خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 716 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 716

خطبات محمود سال ۱۹۳۵ء نام لئے بغیر میں تحریک کرتا ہوں کہ دوست ان کے لئے ضرور دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اولا د عطا کرے جو نیک اور دین کی خادم ہو۔پس دوبارہ اس تحریک کا اعلان کرتے ہوئے میں اس امید کا اظہار بھی کرتا ہوں کہ دوست پہلے سے زیادہ اس سال حصہ لیں گے اور حقیقی قربانی کا ثبوت دیں گے تا ایمان کی قیمت میں اضافہ کا ثبوت مل سکے جو شخص ایک سال خوشخطی کی مشق کرتا ہے یقیناً اگلے سال اُس کا خط بہتر ہوتا ہے۔اس طرح قربانی کرنے والے کے ایمان میں بھی اضافہ ظاہر ہونا چاہئے۔پس دوستوں کو اس امر کا ثبوت دینا چاہئے کہ گزشتہ سال کی قربانی نے ان کے ایمان میں اضافہ کیا ہے۔اور آج وہ پچھلے سال سے زیادہ خدا کی راہ میں تکلیف اُٹھانے کے لئے تیار ہیں۔اور چاہئے کہ ہر جماعت کا چندہ پہلے سے بڑھ جائے اور ہر فرد کا چندہ پہلے سے زیادہ ہو۔سوائے اس صورت کے کہ کسی کے لئے ایسا کرنا ناممکن ہے اور میں جانتا ہوں کہ بعض کے لئے ایسا کرنا فی الواقع ناممکن ہے کیونکہ بعض نے اپنی اس سال کی آمد میں سے چندہ نہ دیا تھا بلکہ گزشتہ عمر کا اندوختہ سب کا سب دیا تھا ایسے دوست بے شک روپیہ کی صورت میں گزشتہ سال جتنا حصہ نہیں لے سکیں گے لیکن یقیناً ان کا اخلاص ضائع نہیں جائے گا۔اللہ تعالیٰ ان کے اخلاص اور گزشتہ سال کی قربانی کی وجہ سے اس سال ان کے ثواب کو رقم کے لحاظ سے نہیں بلکہ گزشتہ قربانی کے لحاظ سے بڑھائے گا۔ان کے سوا جو لوگ ایسے ہوں وہ بڑی قربانی نہ کر سکتے ہوں ان کو بھی میں نصیحت کروں گا کہ وہ کچھ بڑھا دیں۔مثلاً پانچ کی جگہ چھ کر دیں یا دس کی جگہ گیارہ کر دیں تا کہ ان کا قدم نیکی میں آگے بڑھے کھڑا نہ رہے۔میں جماعت کو بتا چکا ہوں کہ ابتلاؤں کا ایک لمبا سلسلہ ان کے سامنے ہے، ایک نہ ختم ہونے والی جنگ ان کے سامنے ہے جسے اللہ تعالیٰ کا ہاتھ ہی ختم کرے گا۔گزشتہ قوموں کی امید ان سے کی جاتی ہے کیونکہ ان کے سپر د دنیا کی آخری جنگ کا فیصلہ کیا گیا ہے پس یا درکھو کہ جو اس وقت کی حقیر قربانی نہیں کر سکتا کہ یہ جو مطالبات میں کر رہا ہوں آئندہ کے مقابلہ پر بالکل حقیر ہیں اُسے اس سے بڑی قربانیوں کی توفیق نہیں مل سکے گی۔جو آج چھوٹی کلاس کا سبق یاد نہیں کرتا وہ کل بڑے امتحان میں ضرور فیل ہو گا۔جو آج قربانی کی مشق نہیں کرتا وہ کل ضرور میدانِ کارزار سے بھاگے گا۔منافق یہی کہتے ہوئے مر جائیں گے کہ ہائے چندہ ہائے چندہ مگر ان کا ٹھکانہ خدا کے پاس نہیں ہو گا۔ان کی