خطبات محمود (جلد 16) — Page 714
خطبات محمود ۷۱۴ سال ۱۹۳۵ء دنوں میں ہی مولوی شیر علی صاحب ولایت جانے والے ہیں۔اخبار سن رائز لاہور سے اور ایک اور مسلم ٹائمنز ولایت سے جاری ہو رہا ہے۔ایک اخبار اردو میں شائع کیا جار ہا ہے اور دو اخبار ایسے ہیں جو ہماری امداد سے چل رہے ہیں۔ولایت کے اخبار کے متعلق غیر ممالک سے اطلاعات آئی ہیں کہ وہاں اسے قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔چین سے اطلاع ملی ہے کہ وہاں لوگ اسے شوق سے پڑھتے ہیں۔سن رائز نے بھی غیر ممالک کے نو مسلموں میں روح پھونکنے کے کئے بہت کام کیا ہے۔امریکہ سے مجھے کئی خطوط نو مسلموں کے پہنچے ہیں کہ پہلے جماعت سے ہمیں کوئی وابستگی معلوم نہ ہوتی تھی مگر اب سن رائز میں آپ کے خطبات کے تراجم شائع ہونے کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ انہیں پڑھ کر ہم بھی اپنے آپ کو جماعت کا ایک حصہ سمجھنے لگے ہیں۔چنانچہ امریکہ کے نو مسلموں نے اس تحریک میں تین ہزار چندہ لکھایا ہے جس میں سے معقول رقم وصول ہو چکی ہے جو بہت بڑی کامیابی ہے کیونکہ وہ لوگ ایسی باتوں کے بالکل عادی نہیں ہیں اور بعض نے تو بالکل شرائط کے مطابق دیا ہے۔امریکہ میں ایک گورے نو جوان وکیل ہیں۔مبلغ امریکہ نے لکھا ہے کہ ان کی مالی حالت خراب تھی اس لئے میں نے سمجھا کہ امراء کے لئے جور قم مقرر کی گئی ہے ان کی ذمہ داری اتنی نہیں ڈالنی چاہئے مگر انہوں نے خود ہی آکر تین سو کا وعدہ لکھوا دیا اور پھر ا سے ادا بھی کر دیا۔گویا جو لوگ اسلام کے دشمن تھے اور اس کا نام سننا بھی نہ چاہتے تھے ان کے اندر بھی زندگی کی نئی روح پیدا ہو رہی ہے انْشَاءَ اللَّهُ الْعَزِيزِ تھوڑے دنوں میں پندرہ ہیں نئے ممالک میں بھی تبلیغ کا کام باقاعدہ شروع ہو جائے گا اعلان کے وقت یہ بات نظر انداز ہو گئی تھی کہ ان ممالک میں ان کی زبانوں میں لٹریچر کی ضرورت ہوگی لیکن اب اس ضرورت کا بھی احساس ہوا ہے اور پندرہ بیس نئے ملکوں کو مد نظر رکھ کر جہاں تبلیغ شروع کی جائے گی لاکھوں روپیہ اس کام کے لئے بھی چاہئے ہو گا گو میرا ارادہ ہے کہ اس کام کو تجارتی اصول پر چلایا جائے اور کتب کو زیادہ تر فروخت کیا جائے اور پہلی کتب کی فروخت پر کتب شائع کی جائیں مگر آٹھ دس زبانیں بھی چھنی جائیں اور پندرہ ہزار کا سرمایہ فی ملک کے لئے وقف کیا جائے جو بہت کم ہے تو بھی ڈیڑھ لاکھ کی ضرورت اس غرض کے لئے ہے۔بے شک یہ سب بار ایک سال میں نہیں پڑے گا لیکن اسے پانچ سال پر بھی تقسیم کیا جائے تو تمہیں ہزار فی سال کی ضرورت ہوتی ہے۔یہ کام ایسا ہے کہ اسے افراد کی جانی قربانی تکمیل تک نہیں پہنچا سکتی کیونکہ خواہ کتنے آدمی اپنی جان اور اپنا وقت قربان کر دیں