خطبات محمود (جلد 16) — Page 700
خطبات محمود سال ۱۹۳۵ء اگر وہ کا نفرنس کے لئے آئے پھر اگر مباہلہ کی نیت سے آئیں تو اس کا کوئی خطرہ نہیں کیونکہ اس صورت میں وہ زیادہ سے زیادہ ایک ہزار آدمی ہونگے اور تقریریں وغیرہ کوئی نہیں کریں گے بلکہ زیادہ سے زیادہ پندرہ بیس منٹ میں ہر ایک فریق اپنا عقیدہ بیان کر دے گا۔اور پھر دعا کر کے دونوں فریق اپنے اپنے گھروں کو چلے جائیں گے مگر جیسا کہ اطلاعات سے معلوم ہوتا ہے وہ جلسہ کے لئے آئیں گے اور اشتعال دلانے کی کوشش کریں گے اور چونکہ میں نے بھی جماعت کو اجازت دے دی ہے کہ وہ اس سال ان کی تقریروں کا جواب جلسوں وغیرہ کے ذریعہ سے لڑ پچر تقسیم کر کے دے سکتے ہیں اور میرا حکم گزشتہ سال کی طرح یہ نہیں کہ ہمارے دوست گھروں میں رہیں حتی کہ کوئی اشتہار بھی تقسیم نہ کیا جائے ، اس لئے اس دفعہ احتیاط کی اور بھی ضرورت ہے۔گزشتہ سال ہم نے یہ حکم حجت تمام کرنے کے لئے دیا تھا اور حجت پوری کرنے کے لئے بعض دفعہ انسان اپنے حقوق بھی چھوڑ دیتا ہے کیونکہ انتہائی نمونہ دکھائے بغیر دشمن کو سمجھانا مشکل ہوتا ہے۔پس یہ بتانے کے لئے کہ حکومت نے بھی ہمارے ساتھ سختی کی ہے اور احرار نے بھی زیادتی کی ہے ہم اپنے حقوق سے بھی دست بردار ہو گئے تھے مگر اس دفعہ یہ نہیں ہوگا بلکہ اگر کوئی احمدیت پر حملہ کرے گا تو ہمیں پورا حق ہوگا کہ خواہ تقریر سے خواہ تحریر سے جواب دیں یا افراد سے الگ الگ ملاقات کر کے دیں۔ہمارے آدمی وہاں جائیں اور ان کی باتوں کو نوٹ کریں اور پھر اُن کی تردید مناسب موقع پر کریں۔اور اگر ان کے لیکچرار کوئی چیلنج دیں تو اُسے قبول کریں۔غرض قانون نے ہمیں جو حقوق دیئے ہیں اور شریعت نے ان کو رد نہیں کیا ہماری جماعت کو اجازت ہوگی کہ انہیں پوری طرح استعمال کرے مگر ہماری طرف سے بداخلاقی نہیں ہونی چاہئے۔بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ کسی نے گالی دی تو اُس کا جواب گالی میں دے دے۔یا جلسہ میں ہی لَعْنَةُ اللهِ عَلَى الْكَاذِبِینَ کہہ دیا جیسا کہ پچھلے دنوں ایک نوجوان نے ان کی تقریر میں ایسا کہہ دیا تھا۔یہ طریق ہماری جماعت کے لئے مناسب نہیں۔گو میں سمجھتا ہوں کہ احرار کو اعتراض کرنے کو کوئی حق نہیں۔کیونکہ ان کے اعمال کی تاریکی انہیں دوسرے پر ایسا اعتراض کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔مگر مشکل یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے بُرے اعمال کو بھول جاتے ہیں اور ہماری معمولی باتیں انہیں یا د رہتی ہیں اور یہی ہماری فتح کی علامت ہے۔دو سال ہوئے میں نے لاہور میں حضرت رسول کریم علی صلى الله کی سیرت پر تقریر کی تو ان ہی کی قماش کے لوگوں کی طرف سے آدمی بھیجے گئے کہ جلسہ میں شور کریں