خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 697 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 697

خطبات محمود ۶۹۷ سال ۱۹۳۵ء لیڈروں نے میرے الفاظ کے مترادف میں بالمقابل قسم شائع نہیں کر دی۔اگر وہ بھی قسم کھا لیتے تو لوگوں کو پتہ چل جاتا کہ وہ بھی مباہلہ کے لئے تیار ہیں یا پھر میری پیش کردہ شرائط ہی شائع کر دیتے اور لکھ دیتے کہ ہمیں یہ منظور ہیں جب میں نے ان کی اس چالا کی کی وضاحت کی اور بتایا کہ میری طرف سے کیا شرائط تھیں تو ان کی طرف سے کہا گیا کہ یہ نئی شرائط ہیں جس سے معلوم ہوا کہ شرائط کے متعلق ابھی جھگڑے کا امکان تھا اگر کوئی امکان نہ تھا تو اب وہ کیوں کہہ رہے ہیں کہ یہ نئی شرائط ہیں۔جب مجھ پر چھوڑ دیا تھا تو چاہئے تھا کہ جو میں کہتا اسے مان لیتے۔اور اگر ابھی ان کے لئے بولنا باقی تھا تو معلوم ہوا کہ ابھی شرائط طے نہیں ہوئی تھیں۔پس اول تو انہیں قادیان میں آنا نہیں چاہئے تھا اگر نیت مباہلہ کی ہوتی تو جیسا کہ میں نے کہا تھا وہ لاہور یا گورداسپور میں کرتے۔ان کی غرض لڑائی اور فساد کرنا ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ شاید اس طرح ان کا کام بن جائے لیکن دین کے لئے جو لڑائی ہو اس سے مؤمن کبھی نہیں ڈرتا۔اگر فساد ہو تو زیادہ سے زیادہ یہی ہو گا کہ کوئی مر جائے گا یا کسی اور رنگ میں نقصان پہنچ جائے گا لیکن کیا مؤمن بھی کبھی موت سے ڈرسکتا ہے ؟ مؤمن کا فرض ہے کہ جہاں تک ممکن ہو فساد اور لڑائی سے بچے۔لیکن اگر خدا کی مشیت ایسا موقع لے ہی آئے تو مؤمن کبھی ڈرا نہیں کرتا۔خدا تعالیٰ کا حکم ہے کہ دشمن کو نہ بلاؤ۔اس لئے وہ کوشش کرتا ہے کہ اُسے دُور رکھے۔لیکن اگر لڑائی ہو ہی جائے اور کوئی آدمی مر ہی جائے تو یہ ہمارے لئے کسی گھبراہٹ کا موجب نہیں بلکہ ثواب کا موجب ہوگا۔رسول کریم ﷺ اور صحابہ کی ہمیشہ نیت ہوتی تھی کہ لڑائی نہ ہو لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ ڈرتے تھے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ كَانَّهُمْ يُسَاقُوْنَ إِلَى الْمَوْتِ یعنی لڑائی کے لئے جانا انہیں موت معلوم ہوتا تھا گویا انہیں لڑائی اتنی بری لگتی تھی کہ وہ کبھی نہیں چاہتے تھے کہ لڑائی ہو۔مگر جب لڑائی ہوتی تو وہی صحابہ جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے ان کی حالت بالکل بدل جاتی تھی۔بدر کے موقع پر جب کفار اور مسلمان آمنے سامنے ہوئے تو مکہ والوں نے ایک شخص کو بھیجا کہ جا کر اندازہ لگاؤ مسلمانوں کی تعداد کتنی ہے؟ وہ گیا اور آ کر کہا کہ مسلمانوں کی تعداد سوا تین سو ہے اور سامان بھی کچھ نہیں۔اس کا یہ اندازہ صحیح تھا کیونکہ مسلمان صرف تین سو تیرہ تھے مگر اُس نے کہا کہ باوجود اس کے میں تمہیں یہی مشورہ دیتا ہوں کہ لڑائی مت کرو کیونکہ بے شک ان کی تعداد کم ہے