خطبات محمود (جلد 16) — Page 65
خطبات محمود سال ۱۹۳۵ء اندر رکھتی ہے اور کوئی مخالفت اسے بڑھنے سے نہیں روک سکتی۔پہرے کے متعلق بھی دوستوں نے عجیب عجیب قسم کی تحریکیں کی ہیں۔بعضوں نے لکھا ہے کہ رات کو جب آپ سوئیں تو کسی کو یہ معلوم نہیں ہونا چاہئے کہ آپ کس کمرہ میں ہیں حتی کہ بیویوں کو بھی یہ علم نہیں ہونا چاہئے۔بعضوں نے لکھا ہے کہ خیر بیویوں کو علم ہو تو کوئی حرج نہیں کسی اور کو معلوم نہیں ہونا چاہئے یہ تمام باتیں جماعت کے اخلاص اور محبت کا نہایت اچھی طرح اظہار کرتی ہیں گو ان پر عمل نہیں ہوسکتا کیونکہ اگر ایسا کیا جائے تو زندگی دوبھر ہو جائے۔مگر جہاں جماعت کی طرف سے نہایت ہی اخلاص اور محبت کا اظہار کیا گیا ہے وہاں جیسا کہ بندر کا تماشہ دکھانے والے روکنے کے باوجود چھینک پڑتے ہیں اسی طرح چھینکنے والے لوگ بھی ہماری جماعت میں موجود ہیں۔چنانچہ مجھے بتایا گیا ہے کہ قادیان میں ایک شخص کو جب مسجد میں پہرہ کے لئے کہا گیا تو اس نے کہا کہ اس طرح پہرہ دینا میرے اصول کے خلاف ہے پس جہاں باہر کی جماعتوں میں ایسے ایسے مخلصین موجود ہیں جو پہرہ کے لئے اپنی نوکریاں چھوڑنے کے لئے تیار ہیں وہاں قادیان میں بعض ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو کہتے ہیں کہ پہرہ دینا ان کے اصول کے خلاف ہے حالانکہ ان کے وہ اصول کہاں سے آئے ہوئے ہیں کیا ان کے اصول کی صحت کا کوئی ثبوت ہے۔ممکن ہے اس ایک شخص کی بات سنکر میں اسے نظر انداز کر دیتا خصوصاً ایسی حالت میں جبکہ یہ الفاظ ایک ایسے شخص کے منہ سے نکلے ہوئے ہیں جو ہمیشہ اپنی بے اصولی باتوں کو با اصول کہتا رہتا ہے اور اس کی عادت میں یہ بات داخل ہے کہ وہ بہت سی بے اصولی باتیں کرتا ہے مگر انہیں اصول قرار دیتا ہے مگر چونکہ ایسے آدمی ہر جگہ بات کرنے کے عادی ہوتے ہیں اور گو ہمیں تو اس بات کی ضرورت نہیں کہ دیکھیں کون پہرہ دیتا ہے اور کون نہیں مگر چونکہ اس قسم کی باتوں کے نتیجہ میں وہ مخلصین اور کام کرنے والے لوگ جو پہرہ دیتے ہیں ان پر اعتراض ہوتا اور وہ بے وقوف سمجھے جا سکتے ہیں حالانکہ بے وقوف پہرہ دینے والے نہیں بلکہ پہرہ پر اعتراض کرنے والے ہیں اس لئے میں نے ضروری سمجھا کہ اس کا جواب دے دوں۔ورنہ اپنی ذات کے لئے مجھے اس پر کچھ کہنے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ میں جانتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے جماعت کے اندر جو ا خلاص میرے منہ متعلق پیدا کیا ہے وہ اس قسم کی باتوں سے دور نہیں ہو سکتا مگر چونکہ ایک طبقہ ایسا بھی ہو سکتا ہے جو اس قسم کی باتوں سے متاثر ہوا اور ممکن ہے کہہ دے کہ اعتراض کرنے والے نے کیسی اچھی بات کہی۔نماز کا اس