خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 684 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 684

خطبات محمود ۶۸۴ سال ۱۹۳۵ء طرف سے کوئی روک نہیں۔اور اگر وہ احمدی جو صرف میرے روکنے کی وجہ سے رُکے ہوئے ہیں ، انہوں نے وہ سب گالیاں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق استعمال ہوتی ہیں ان ظالم اقوام کے بزرگوں کی نسبت استعمال کیں تو پھر دنیا خود دیکھ لے گی کہ گورنمنٹ کس طرح خاموش رہتی ہے اور ادھر تو جہ نہیں کرتی۔اس کے نتیجہ میں بے شک گورنمنٹ ہمارے آدمیوں کو پکڑ سکتی ہے، ان پر مقدمہ چلا سکتی ہے لیکن آخر اخلاقی فتح ہماری ہی ہو گی۔اور دنیا تسلیم کرلے گی کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو گالیاں دی گئیں ، اس وقت حکومت نے اپنے فرض کو ادا نہ کیا۔پھر یہ شخص مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے اس ریویو کا ذکر کرتے ہوئے جو انہوں نے براہین احمدیہ پر کیا لکھتا ہے چونکہ انہیں ” اس پلیدی کا علم نہ تھا اس واسطے شروع میں مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے اپنے رسالہ اشاعۃ السنہ میں کتاب مذکور کی بڑی تعریف کی پھر لکھتا ہے۔مرزا صاحب براہین احمدیہ کے لئے روپیہ لوگوں سے لے کر کھا گئے حالانکہ براہین کے روپیہ کے متعلق بار بار بتایا جا چکا ہے کہ وہ روپیہ معمولی مقدار میں تھا اور اُس وقت کے طباعت کے اخراجات کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کتاب کی اشاعت کے لئے بھی کافی نہ تھا لیکن باوجود اس کے کہ وہ روپیہ موجودہ کتاب کی اشاعت پر خرچ ہوا۔پھر بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سے اعلان کر دیا گیا کہ جس شخص کو شکایت ہو وہ اپناروپیہ واپس لے لے۔بعض نے واپس لیا لیکن جو سمجھتے تھے کہ ان کا روپیہ صحیح خرچ ہوا انہوں نے روپیہ واپس نہ لیا۔اب اگر اس قدر اعلانات ہونے کے بعد بھی کسی نے روپیہ واپس نہیں لیا تو کیوں نہیں لیا ؟ ، اگر واقعہ میں روپیہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کھا گئے تھے تو اس پر اعتراض انہوں نے کرنا تھا جنہوں نے روپیہ بھیجا تھا مگر وہ تو روپیہ پیش کرنے کے باوجود بھی خاموش رہے۔اور آج یہ شخص سید محمد مظہر نہ روپیہ بھیجنے والوں میں سے ہے اور غالباً اُس وقت پیدا بھی نہ ہوا تھا ، اعتراض کرتا ہے اور ایک ناپاک الزام اُس شخص پر لگا تا ہے جس پر ہزاروں لاکھوں آدمی اپنی جانیں شمار کرنے کو تیار ہیں اور جس نے سب دنیا میں اسلام کا جھنڈا بلند کیا ہوا ہے۔پھر یا د رکھنا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اعلان پر ہی بس نہیں اس کے بعد میں بھی اعلان کر چکا ہوں کہ اگر کوئی شخص اب بھی ثابت کر دے کہ اس نے براہین کے لئے روپیہ بھیجا تھا اور وہ روپیہ واپس لینا چاہے تو اسے روپیہ دے دیا جائیگا۔مگر کسی نے آج تک اپنا ثبوت پیش کر کے روپیہ