خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 677 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 677

خطبات محمود ۶۷۷ سال ۱۹۳۵ء صرف سر فضل حسین ہی ہیں ۔ مجھے سر آغا خان سے ملنے کا اتفاق نہیں ہوا اور شاید چند اور مسلمان لیڈر ہوں جن سے ملا ہوں باقی جس قدر مسلمان لیڈروں سے میں ملا ان کی گفتگوؤں ، ملاقاتوں اور اُن سے مشوروں کے بعد میں جس نتیجہ پر پہنچا ہوں وہ یہ ہے کہ سر فضل حسین صاحب کی خدمت اور خیر خواہی کے برابر کا مسلمانوں میں ایک لیڈربھی نہیں مگر مسلمانوں کی بد قسمتی کہ انہیں ایک ہی شخص ایسا ملا جس نے نے نہ نہ لالچ لا سے حق بات کو چھپایا اور نہ خوف سے سچی بات کہنے سے رُکا مگر اسی شخص کو بُرا بھلا کہہ کر ہمارے ساتھ شامل کر دیا ۔ شاید اس وجہ سے کہ ہم بھی دیانتداری کے ساتھ کام کرنے والے ہیں اور سر میاں فضل حسین صاحب بھی ۔ گویا احرار نے صرف ایک اصل اپنی راہ نمائی کے لئے مقرر کیا ہوا ہے اور وہ یہ کہ جو بھی دیانتدار لیڈر ہو خواہ وہ احمدی ہو یا غیر احمدی اُس پر حملہ کرد احمدی اُس پر حملہ کر دو۔ بہر حال وہ یہ پرو پیگنڈا کر رہے ہیں کہ مسجد شہید گنج احمدیوں اور سر میاں افضل حسین کے ایماء سے گرائی گئی ہے باقی وو اس بات کا کوئی ثبوت ہو یا نہ ہو ، اس سے ان کو کوئی واسطہ نہیں ۔ انہوں نے تو ” خوئے بدرا بہانہ ہا بسیار کے مقولہ کے مطابق اپنا ز ہر دکھانا ہے اور ان کا مقصد تو صرف یہ ہے کہ کسی نہ کسی طرح دوسرے کو گرایا جائے ۔ اور جب کسی قوم نے دوسروں کو گالیاں ہی دینی ہوں تو اس کے لیے وہ ہزار بہانے بناسکتی ہے ۔ وہ جانتے ہیں کہ ان کے مقابلہ میں ہم نے شرارت سے کام نہیں لینا ۔ اگر ہم بھی اسی قسم کی شرارتوں سے کام لیتے تو شاید وہ اس قسم کی دلیری نہ کرتے ۔ مثل مشہور ہے کہ کوئی امیر تھا جو امیر ہونے کے ساتھ ہی بخیل بھی تھا اس کی عادت تھی کہ وہ ایک جگہ شادی کرتا اور چند دنوں کے بعد عورت کو گھر سے نکال دیتا ۔ پھر کسی اور جگہ شادی کرتا اور چند دنوں کے بعد اسے بھی کسی بہانہ سے گھر سے نکال دیتا ۔ وہ شادی کرتے وقت یہ شرط کر لیا کرتا کہ اگر عورت نے کوئی قصور کیا تو اُس کا سارا مال میرا ہوگا ۔ اسی طرح اُس نے بہت سی عورتوں سے شادی کی اور بہانہ بنا کر نکال دیا۔ آخر ایک جگہ پھر جو اُس نے شادی کے لئے درخواست دی تو لڑکی کے باپ نے انکار کیا ۔ مگر لڑکی نے باپ سے کہا کہ آپ میری اسی جگہ شادی کر دیں ، میں اِسے سیدھا کر لوں گی۔ خیر اس نے شادی کر دی ۔ مہینہ بھر تک جب اسے کوئی گرفت کا موقع نہ ملا تو تنگ آ کر ایک دن کہنے لگا ۔ آج میں کھانا باورچی خانہ میں ہی کھاؤں گا ۔ مجھے جلدی سے روٹی پکا دی جائے ۔ چونکہ وہ بخیل تھا اور نوکر اُس نے کوئی رکھا ہو انہیں تھا اس لئے بیوی ہی روٹی پکاتی تھی ۔ جب وہ روٹی پکانے لگی