خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 676 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 676

خطبات محمود سال ۱۹۳۵ء پس ہم نے احرار کے ساتھ جنگ شروع نہیں کی۔وہ آپ آئے اور انہوں نے ہم سے لڑائی شروع کر دی اور اس لئے لڑائی شروع کر دی کہ تا انہیں لوگوں سے روپیہ ملے اور ملک میں شہرت حاصل ہو۔پھر اس ذلیل مقصد کے حصول کے لئے انہوں نے قادیان آ کر ہمیں وہ وہ گالیاں دیں اور سلسلہ کی اتنی شدید ہتک کی کہ ایک شریف انسان ان گالیوں کے سننے کی بھی تاب نہیں رکھتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جن ناپاک الفاظ میں یاد کیا گیا اور جو جو گندی باتیں آپ کی طرف منسوب کی گئیں میں جانتا ہوں کہ انہیں برداشت کرنا ہمارا ہی حوصلہ تھا۔اگر ہم پر اعتراض کرنے والے مسلمانوں میں سے کسی کے باپ کو ان میں سے ایک گالی بھی دی جاتی تو گالی دینے والا وہاں سے زندہ نہ اُٹھتا۔یہ ہمارا ہی حوصلہ تھا کہ ہم نے ان گالیوں کو سنا مگر اپنا ہاتھ نہ اُٹھایا لیکن اگر ایک طرف مؤمن کا حوصلہ اتنا ز بر دست ہوتا ہے کہ وہ گندی سے گندی گالیاں سن کر بھی اپنا ہاتھ نہیں اُٹھاتا تو دوسری طرف اُس کی غیرت بھی اتنی زبر دست ہوتی ہے کہ وہ مرتے دم تک ان گالیوں کو نہیں بھلاتا۔اور اُس وقت تک وہ انگاروں پر کوٹتا رہتا ہے جب تک ان گالیوں کا شریفانہ اور جائز بدلہ نہیں لے لیتا۔پس یہ حوصلہ دکھانا ہمارا ہی حصہ تھا لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ بات پوری ہوگئی ؟ کیا وہ گالیاں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دی گئیں ، دنیا سے مٹ گئیں ؟ اور کیا وہ گندے الفاظ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق استعمال کئے گئے آج دُہرائے نہیں جاتے ؟ اگر آج بھی گندے الفاظ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق استعمال کئے جاتے ہیں اور اگر آج بھی گندی گالیاں دنیا میں موجود ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دی گئیں تو ہم کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے اپنا کام ختم کر لیا۔بے شک مسجد شہید گنج کے موقع پر احرار کو ایک شکست ہوئی مگر اپنے کھوئے ہوئے وقار کو دوبارہ حاصل کرنے کے لئے انہوں نے مسجد شہید گنج کو ہی اپنا آلہ کار بنایا اور کہنا شروع کر دیا کہ مسجد تین شخصوں نے گرائی ہے جن میں سے ایک وہ میرا نام لیتے ہیں ایک چوہدری سر ظفر اللہ خان صاحب کا اور ایک سر فضل حسین صاحب کا۔حالانکہ سر فضل حسین صاحب اُس وقت ایبٹ آباد میں بیمار پڑے ہوئے تھے۔اور سچی بات یہ ہے کہ مسلمان لیڈروں میں سے کوئی لیڈ راگر ایسا ہے جس نے انتہائی خیر خواہی کے ساتھ مسلمانوں کا ساتھ دیا اور نہایت نازک اوقات میں نہ لالچ سے دیا اور نہ خوف سے متاثر ہوا اور نہایت جرات اور دلیری کے ساتھ مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کرتا رہا تو وہ