خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 671 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 671

خطبات محمود ۶۷۱ سال ۱۹۳۵ء انکار کا موقع ہی کیا رہتا ہے۔یہ تو ویسی ہی بات ہے جیسے کہتے ہیں کوئی نا تجربہ کار چور تھا اس نے کہیں چوری کی۔جب پولیس والے تفتیش کے لئے آئے تو وہ بھی ساتھ ہو گیا تا اُس کی چوری پر پردہ پڑا رہے۔جب پولیس والے تفتیش کرنے لگے تو یہ انہیں کھوج بتا تا گیا کہ معلوم ہوتا ہے کہ چور پہلے اس طرف سے آیا پھر یوں مکان میں داخل ہوا۔پولیس والے چونکہ ہوشیار ہوتے ہیں، روزانہ کام کرنے کی وجہ سے انہیں تجربہ ہو جاتا ہے وہ سمجھ گئے کہ یہ کھوج نہیں بتارہا بلکہ چوری کا واقعہ بتا رہا ہے۔چنانچہ انہوں نے اُسے شہہ دینی شروع کی۔وہ خوش ہو کر اور زیادہ باتیں بتا تا گیا آخر کہنے لگا دیکھیں ! مکان کے اندر یہ جو نشان ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ چوروں نے اسباب کی پہلے گٹھڑی باندھی ، پھر یہاں اپنے ایک ساتھی کے سر پر گھڑی رکھ دی۔جب وہ شخص آگے چلا تو معلوم ہوتا ہے کہ اُس کوٹھوکر لگی اور پھر گٹھڑی اندر اور میں باہر۔اب جبکہ گورنمنٹ کے مختلف دفاتر سے اور پھر پولیس کی ایک چوکی کے عارضی انچارج سے میں والی بات نکل جاتی ہے تو اس سرکلر پر پردہ کس طرح پڑ سکتا ہے اور پھر یہ اس ایک ضلع کی بات نہیں بلکہ دو ضلعے اور ہیں جہاں سے یقینی طور پر یہ اطلاع پہنچی ہے۔آخر وجہ بتائی جائے کہ لاہور سے کوئی سرکلر جاری نہیں ہوا جھگڑا گورداسپور میں ہے اور راولپنڈی کا ایک ہیڈ کانٹیبل دُور دراز کے ایک گاؤں میں جاتا اور احمدیوں سے اقرار لیتا ہے کہ تم مجلس شوری کے موقع پر بغیر پولیس میں اطلاع کرنے کے قادیان نہیں جاؤ گے اور جب پولیس والوں کو پکڑا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں اس معاملہ کو دبا دیں۔اس ہیڈ کانسٹیبل نے شراب پی ہوئی تھی جس کے نشہ میں اُس نے بات کہہ دی ور نہ ہمیں تو مخفی حکم تھا۔غرض ان باتوں کے ہوتے ہوئے ہم کس طرح مان سکتے ہیں کہ ایسا سرکلر جاری نہیں ہوا۔جب سرکلر جاری ہے تو پھر جو نقصان اس کی وجہ سے ہماری جماعت کو پہنچے گا اس کا ذمہ دار کون ہو گا یقیناً اگر میں اِس کے ازالہ کی فکر نہ کروں تو اللہ تعالیٰ کے سامنے میں اس کا ذمہ دار ہوں۔پس ان حالات میں میں کس طرح فرض کر سکتا ہوں کہ حکومت کے ساتھ ہمارا معاملہ صاف ہو گیا ہے پس جب تک ہمیں یہ معلوم نہ ہو جائے کہ گورنمنٹ نے ہماری جماعت کے خلاف جو سرکلر جاری کیا تھا اُسے اُس نے منسوخ کر دیا ہے اور جب تک ان نقصانات کی تلافی نہ ہو جائے جو ایسے سرکلر کا لازمی نتیجہ ہیں اُس وقت تک کیسے ممکن ہے کہ ہم بعض افسروں کے تبدیل شدہ رویہ سے ہی خوش ہو جائیں اور یقین کر لیں کہ حکومت کا رویہ ہمارے متعلق درست ہو گیا۔ہم حکومت سے کبھی لڑنے کیلئے تیار نہیں