خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 61 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 61

خطبات محمود ۶۱ سال ۱۹۳۵ء جائے اور اب کہ اس کی اجازت دے رہا ہوں پھر نصیحت کرتا ہوں کہ احتیاط سے کام کرو۔ان نصیحتوں کے ساتھ اور ان ہدایات کے ماتحت میں جماعتوں کو اجازت دیتا ہوں کہ جو جماعتیں سمجھتی ہیں کہ ان کے حالات اس کا تقاضا کرتے ہیں کہ وہ اپنے در د دل کو حکومت پر ظاہر کریں وہ الگ انجمنیں بنالیں اور پھر بعد میں میں ان کو بتاؤں گا کہ وہ کن شرائط اور اقراروں کے ماتحت اپنے معاملات کو حکومت پنجاب حکومت ہند ، حکومت برطانیہ اور پبلک کے سامنے پیش کر سکتے ہیں ، اس کے علاوہ اور جو جائز ذرائع خدا نے مقرر کئے ہیں ان کو استعمال کر سکتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہماری جماعت کا محافظ ہو اور اسے اپنے مخالفوں پر پر فتح دے اور ہر غلط قدم سے اس کی حفاظت کرے ۔اے خدا توا ایسا ہی کر ۔ ( الفضل ۲۹ جنوری ۱۹۳۵ء ) ا مانٹیگو چیمسفورڈ ریفارمز (Montague Chelmsford Report) جنگ عظیم اوّل میں حکومت برطانیہ نے ہندوستانیوں سے وعدہ کیا تھا کہ اگر انہوں نے حکومت کو امداد پہنچائی تو انہیں زیادہ سے زیادہ مراعات کا مستحق سمجھا جائے گا جب جنگ ختم ہوئی تو ہندوستانیوں کی طرف سے مطالبات شروع ہوئے جو ایجی ٹیشن کا رنگ اختیار کر گئے ۔ لارڈ چیمسفورڈ ، جو لارڈ ہارڈنگ کے بعد ۱۹۱۶ ء میں ہندوستان آئے تھے اور اب وائسرائے تھے، نے مسٹر مانٹیگو (Mr۔Montague) کی معیت میں ہندوستان کے سیاستدانوں اور مدبروں سے تبادلہ خیالات کر کے ایک رپورٹ تیار کی جو مانٹیگو چیمسفورڈ سکیم کے نام سے مشہور ہے۔ پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد یہ سکیم گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ ۱۹۱۹ء کے نام سے شائع ہوئی۔ اس کا نفاذ ۱۹۲۱ء میں ہوا، جس کے تحت ہندوستانیوں کو حکومت کے انتظام میں حصہ دیا گیا اور بعض وزارتوں پر ہندوستانیوں کو مقر ر کیا گیا۔ دو ملخص از نیو تاریخ انگلستان از نیو تاریخ انگلستان صفحه ۳۱۲، ۳۱۳ مطبوعه ۱ عہ لاہور ۔ ” آزاد قوم کی تعمیر اور پاکستان“ صفحه ۱۳۶ مطبوعہ لاہور ۱۹۴۷ء ۔ یونیورسٹی ہسٹری آف انڈیا صفحہ ۳۶۵، ۳۶۶ مطبوعہ لاہور ) کے سر اڈوائر (Sir O'Dwyer) میکلیکن سر ایڈورڈ ڈگلس ۔ ۲۵ اگست ۱۸۶۴ء کو پیدا ہوئے ۔ اینو کالج آکسفورڈ میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد ۱۸۸۵ء میں آئی سی اے سے منسلک