خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 651 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 651

خطبات محمود ۶۵۱ سال ۱۹۳۵ء ہو ان خطبات کو اپنے اپنے ہاں سنانے کا انتظام کرے تا سب دوست آگاہ ہو جائیں۔یاد رکھو کہ تمہارے لئے ایک آزمائش ہے بہت بڑی آزمائش جس میں اگر تم پورے نہ اُترے تو جیسا کہ میں نے قرآن کریم کا جو رکوع ابھی پڑھا ہے اس کا آگے چل کر ترجمہ کرتے ہوئے بتاؤں گا تمہارے لئے سخت مشکلات پیدا ہو جائیں گی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ یعنی ہم ایسے لوگوں کو جو ہمارے فرائض کو ادا نہیں کرتے تباہ کر کے دوسروں کو ان کی جگہ کھڑا کر دیا کرتے ہیں۔دیکھو! انسان اور جمادات میں یہی فرق ہوتا ہے۔انسان کے دل میں بھی کبھی آگ ہوتی ہے اور دھاتوں کو بھی آگ دی جاتی ہے۔دونوں کو آگ ملتی ہے مگر لو ہا صرف تھوڑی دیر گرم رہتا ہے اور اُسی وقت اُسے گو ٹا جا سکتا ہے جب وہ گرم ہو لیکن مؤمن انسان کا دل کبھی ٹھنڈا نہیں ہوتا۔مؤمن اور غیر مومن میں یہی فرق ہوتا ہے کہ غیر مؤمن جمادات کی طرح خاص موقعوں پر گرم ہوتے ہیں اور موقع کی تاک میں رہتے ہیں لیکن مؤمن کے لئے ہر وقت موقع ہوتا ہے۔جوش کی حالت میں ہر شخص قربانی کرسکتا ہے۔ایک منافق جس کی بُزدلی کا ذکر خاص طور پر اللہ تعالیٰ نے کیا ہے ، اس کو ماں بہن کی گالی اگر کوئی دے تو وہ بھی مرنے مارنے پر تیار ہو جائے گا۔میں کسی مومن کو یہ نہیں کہ رہا کہ منافق کو گالی دے بلکہ میرا مطلب یہ ہے کہ اگر منافق کو جو بُز دل ہوتا ہے اگر کوئی شخص گالی دے تو وہ بُزدل ہونے کے باوجود اُس سے لڑ پڑے گا۔ہمارے ملک میں مثل مشہور ہے کہ ایڑی کے نیچے آیا ہوا کیڑا بھی کاٹ لیتا ہے پس یہ کوئی بہادری نہیں کہ کسی وقت ایڑی کے نیچے آ جانے کی وجہ سے تم کاٹ لو۔اس سے صرف یہ ثابت ہو گا کہ تمہاری غیرت کیڑے جتنی ہے مگر مؤمن کی غیرت ایسی نہیں ہوتی۔مؤمن کی غیرت پہاڑوں کو ہلا دیتی ہے۔وہ جن باتوں پر غیرت کھاتا ہے انہیں کبھی نہیں بھلاتا۔اگر بعد میں آنے والے مسلمان وہی غیرت رکھتے جو صحا بہ کرام میں تھی تو کیا یہ بھی ممکن تھا کہ آج غیر مذاہب دنیا میں موجود ہوتے۔لوگ کہتے ہیں مسلمان دیوانے ہیں جہاں ان کی حکومت پہنچی وہاں انہوں نے اسلام کو تلوار کے زور سے پھیلایا۔ہم اس الزام کو بالکل غلط سمجھتے ہیں ہمیں تو الٹا یہ شکوہ ہے کہ مسلمانوں کے اندر دیوانوں کی طرح اسلام کو پھیلانے کا جوش نہ رہا۔کاش! جو جوش صحابہ میں یا اُن کے بعد قریب کے زمانہ کے مسلمانوں میں تھا وہ بعد میں آنے والوں میں بھی ہوتا۔اگر ایسا ہوتا تو آج اسلام اس طرح غریب الوطنی کی حالت میں نہ ہوتا۔کیا یہ عجیب بات نہیں کہ وہ مذہب جس نے