خطبات محمود (جلد 16) — Page 650
خطبات محمود سال ۱۹۳۵ء باقی ہیں اور اسی فیصدی رقوم وصول ہو چکی ہیں۔اس کے علاوہ کچھ اور تحریکات بھی تھیں مثلاً یہ کہ نو جوان اپنی زندگیاں پیش کریں اس کے ماتحت دو اڑھائی سو نو جوانوں نے اپنے آپ کو پیش کیا۔ان میں سے بعض کو ہم نے کام پر لگایا اور بعض کو نہیں لگایا جا سکا۔یہ جواب بھی گوایسا شاندار نہ تھا جتنا ہمیں جماعت سے امید رکھنی چاہئے مگر دوسری جماعتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بہت حد تک شاندار تھا۔اس کے علاوہ کچھ تحریکیں جماعت کی اندرونی حالت کی اصلاح اور درستی کے متعلق تھیں۔مثلاً ایک سادہ زندگی کے متعلق تھی کہ سادہ خوراک کھائیں اور سادہ لباس پہنیں۔خوراک کے لئے ایک قانون بنا دیا گیا تھا کہ صرف ایک ہی سالن استعمال کیا جائے سوائے دعوت کے جو ایسے شخص کی طرف سے ہو کہ انکار کرنا اس کے لئے موجب تکلیف ہو باقی ایک نمکین اور ایک میٹھے کے سوا دوسرا کھانا استعمال نہ کیا جائے۔میٹھا اس واسطے رکھا تھا کہ بعض لوگوں کو اس کی عادت ہوتی ہے اور یہ ان کے لئے کھانے کا ایک جزو ہوتا ہے۔یہ مطلب نہ تھا کہ جنہیں روزانہ میٹھا کھانے کی عادت نہیں وہ سالن تو ایک کر دیں لیکن میٹھا زائد کر دیں۔پھر میں نے کہا تھا کہ عورتیں کپڑے بنوانے میں احتیاط سے کام لیں۔گوٹہ کناری کا استعمال نہ کریں، زیورات نہ بنوائیں۔پرانی اشیاء تلف کرنے کا میں نے حکم نہیں دیا تھا مگر آئندہ ایسے سامان جن میں اسراف کا رنگ ہو جیسے گوٹہ کناری وغیرہ ہیں ، ان سے منع کر دیا تھا پھر ضرورت سے زیادہ کپڑے بنوانے کی ممانعت کی تھی۔ان سب چیزوں کی تفاصیل آئندہ چند خطبوں میں میں پھر بیان کروں گا۔سر دست میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ میری طبیعت پر یہ اثر ہے کہ جس رنگ میں جماعت نے مالی قربانی کی ہے، اس حد تک دوسری باتوں کی طرف توجہ نہیں کی۔سادہ زندگی کے متعلق میں جانتا ہوں کہ ہزار ہا لوگوں نے اپنے اندر تغیر پیدا کیا ہے مگر ابھی بہت ہیں جن کو اپنے اندر تغیر پیدا کرنا چاہئے۔بہر حال میں نے ایک اعلان کیا تھا اور جماعت نے اس کا ایسے رنگ میں جواب دیا جو دشمن کیلئے حیرت انگیز ہے مگر ہمارے لئے نہیں کیونکہ ہم نے جو کام کرنا ہے اس کے لئے بہت سی قربانیوں کی ضرورت ہے۔اس سکیم کو چونکہ فی الحال ہم نے تین سال تک چلانا ہے اس لئے آئندہ چند خطبوں میں اگر اس میں سے کسی بات میں تبدیلی کرنی ہوئی تو وہ ورنہ پھر اسی مضمون کو بیان کروں گا تا جماعت کے دوستوں کے دماغوں میں پھر سب باتیں مستحضر ہو جائیں۔اور اس خطبہ کے ذریعہ اعلان کرتا ہوں کہ ہر جماعت جمعہ یا اتوار کے روز جیسا بھی اُس کے حالات کے مطابق مناسب