خطبات محمود (جلد 16) — Page 612
خطبات محمود ۶۱۲ سال ۱۹۳۵ء رات میں گناہوں اور بدیوں کے نام بھی پوری طرح مین نہیں سکو گے۔جب شیطانی جال اس قدر وسیع طور پر دنیا میں پھیلا ہوا ہے تو کیا تم خیال کرتے ہو کہ تم معمولی معمولی قربانیوں سے اس جال کو توڑ سکو گے؟ جب تک تم کامل قربانی اور ایثار نہ دکھاؤ اور ہر قسم کے خطرات کو برداشت کرتے ہوئے خدا تعالی کی آواز دنیا کے کانوں تک نہیں پہنچاؤ گے اُس وقت تک کامیابی نہیں آسکتی۔پس کبھی مت خیال کرو کہ معمولی معمولی قربانیوں سے تم اپنے کام کو ختم کر سکو گے۔تمہیں اس راہ میں اپنی عزتیں قربان کرنی پڑیں گی ، وجاہتیں قربان کرنی پڑیں گی ، اموال قربان کرنے پڑیں گے ، جانیں قربان کرنی پڑیں گی اور ہر عزیز سے عزیز تر چیز اس راہ میں لٹا دینی ہوگی تب وہ نتیجہ نکلے گا جس کے تم خواہشمند ہو۔مگر یہ نہ سمجھو کہ پھر تمہیں آرام مل جائے گا اور تمہارے لئے کوئی کام نہیں رہے گا۔میں حیران ہوتا ہوں جب میں دیکھتا ہوں کہ لوگ آرام کا کس قدر غلط مفہوم سمجھے بیٹھے ہیں اسی سورۃ میں اللہ تعالیٰ آرام کی تعریف کرتے ہوئے فرماتا ہے فَإِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبُ اے رسول ! جب تم اس جنگ سے فارغ ہو جاؤ تو آرام تم نے پھر بھی نہیں کرنا بلکہ فَانصَبُ پھر خوب محنت کرنا اور جد و جہد سے کام لینا۔پس اسلام نے آرام کے معنی زیادہ کام اور زیادہ جد و جہد کرنے کے لئے ہیں۔اور اسلام کا نقطہ نگاہ یہ ہے کہ جتنا زیادہ کوئی شخص جد و جہد کرے گا اتنا زیادہ وہ اپنے دل میں آرام محسوس کرے گا۔اس نقطہ نگاہ کو نہ سمجھنے کی وجہ سے مسلمانوں نے بہت سی ٹھوکریں کھائی ہیں۔یہ مضمون چونکہ بہت وسیع ہے اس لئے میں اس وقت اس پر بحث کرنا نہیں چاہتا میں صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ آرام کی غلط تعریف لوگ کرتے ہیں اور اس طرح بارگاہِ الہی سے راندے جاتے ہیں۔مؤمن کے نزدیک آرام کے معنی ہی یہ ہیں کہ وہ پہلے سے بھی زیادہ کام کرے اور خوب محنت سے کرے۔اسلام کے نزدیک آرام منزل مقصود نہیں جس کے لئے انسان جد و جہد کرتا ہے بلکہ صحیح کوشش کے ساتھ ساتھ پیدا ہونے والی حسن کا نام ہے۔چنانچہ یہاں اسی مفہوم کو بیان کیا گیا ہے کہ ہم نے تمہیں حکم دیا۔شیطان سے لڑو اور خوب لڑو تم نے لڑائی کی اور فتح حاصل کی۔آؤاب اور زیادہ زور سے ہماری طرف دوڑ و کیونکہ تمہارے لئے یہی حکم ہے کہ جب تم فارغ ہو جاؤ تو زیادہ کوشش اور مستعدی سے خدا تعالیٰ کی طرف دوڑو۔پس مؤمن کے لئے اس قسم کا آرام کہاں آیا جسے دنیا آرام کہتی ہے۔مجھے اس جگہ پر ایک لطیفہ یاد آ گیا۔مولوی برہان الدین صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام