خطبات محمود (جلد 16) — Page 610
خطبات محمود ۶۱۰ سال ۱۹۳۵ء خیانت اور غداری کے جراثیم اس سے بہت زیادہ انسانوں کو نقصان پہنچاتے ہیں جتنا ہیضے یا طاعون کے کیڑے انسانوں کے لئے مہلک ثابت ہوتے ہیں ۔ کیونکہ طاعون اور ہیضہ انسانی جسم کو نقصان پہنچاتے ہیں مگر جھوٹ ، خیانت اور عصیان انسانی روح کو تباہ کرتے ہیں۔ اور یہ نادانی ہے کہ انسان ہیضہ اور طاعون کو روحانی گناہوں سے زیادہ خطر ناک اور مہلک سمجھے ۔ اگر کسی جماعت کا واقعی خدا تعالی سے تعلق ہے تو پھر اسے چھوٹے چھوٹے گناہوں کو بھی طاعون اور ہیضہ سے زیادہ زیادہ مہلک سمجھنا چاہئے ۔ اور اگر کسی وقت کہا جائے کہ تمہیں طاعون اور ہیضہ منظور ہے یا جھوٹ ، خیانت اور عصیان وغیرہ تو وہ یک زبان ہو کر کہہ اُٹھے کہ ہمیں طاعون منظور ، ہیضہ منظور مگر یہ منظور نہیں کہ گناہوں کے جراثیم ہمارے اندر پھیلیں ۔ ہماری جماعت کو بھی غور کرنا چاہئے کہ کیا گناہوں کے خلاف اسی قسم کا جوش اس کے دل میں بہ حیثیت جماعت موجود ہے؟ اگر نہیں تو پھر یقینا اس کا علاج ہونا چاہئے اور یقیناً پھر ضرورت ہے کہ ابتلاؤں پر ابتلا آئیں یہاں تک کہ دو صورتوں میں سے ایک ہو جائے یعنی یا تو لوگ مرتد ہو جائیں اور یا اپنی اصلاح کرلیں ۔ لیکن اگر جماعت بغیر کسی قسم کے ابتلا کے خود بخود اپنی اصلاح کرلے تو پھر ابتلاؤں کی بھی ضرورت نہیں رہتی ۔ ابتلاؤں کی ضرورت میں سے ایک بڑی بھاری ضرورت یہ ہے کہ اس طرح قلوب کی اصلاح ہوتی اور مؤمن اور منافق میں تمیز ہو جاتی ہے۔ پس میں پھر ایک دفعہ جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں اگر کوئی ہم میں سے اپنے دشمنوں سے لڑنا چاہے تو اسے چاہئے کہ سچائی کی تلوار لے کر لڑے اور یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ وہ لڑائی جو ہم میں اور ہمارے مخالفوں میں جاری ہے ختم ہو گئی ۔ یہ ختم نہیں ہو سکتی اور نہ ہو گی بلکہ یہ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کہ سچ اور جھوٹ میں سے ایک قربانگاہ پر نہیں چڑھایا جاتا ۔ یہ شیطان اور رحمن کی آخری جنگ ہے۔ یہ اٹلی اور ایسے سینیا کی جنگ نہیں کہ جب جی چاہا صلح کر لی اور جس وقت خیال اُٹھا لڑائی شروع کر دی ۔ نہ یہ جرمن اور انگریز کی جنگ ہے کہ اس کا ختم کرنا انسانی طاقتوں میں ہو بلکہ یہ رحمانی فوجوں کی شیطانی لشکر کے ساتھ آخری جنگ ہے اس جنگ میں نہ خدادم لے سکتا ہے جب تک کہ شیطان کو شکست نہ دے لے اور نہ شیطان دم لے سکتا ہے جب تک کہ رحمانی فوجوں کو پسپا نہ کرے ۔ مگر جا مگر جیسا کہ پیشگوئیوں سے معلوم ہوتا ۔ ہوتا ہے آخر رحمانی فوج کو ہی غلبہ ہے ۔ شیطان ہمیشہ کے لئے شکست کھائے گا اور اس کی فوجوں کو پسپا کر دیا جائے گا ۔ پس دوستوں کو یہ نہیں ہے۔