خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 607 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 607

خطبات محمود سال ۱۹۳۵ء لگ جاتے ہیں کہ وہ نصرت کے وعدے کیا ہوئے؟ حالانکہ نہ یہ امتحان امتحان ہیں اور نہ یہ ابتلا ابتلا ہیں ۔ یہ تو ایسے ہی ہیں جیسے راہ چلتے ہوئے کسی کے پاؤں میں کانٹا چھ جائے ۔جس ابتلا کا نام خدا تعالیٰ نے عُسر رکھا ہوا ہو وہ معمولی عسر نہیں ہو سکتا اور نہ معمولی تکالیف سے ایمان کی آزمائش ہو سکتی ہے ۔ جس طرح سونا کٹھالی میں ڈالا جاتا ہے اسی طرح مؤمن جب تک مصائب و شدائد کی کٹھالی میں نہ ڈالا جائے ، اس کا حقیقی حُسن ظاہر نہیں ہوتا ۔ اس میں شبہ نہیں کہ جب انسان اس عُسر میں سے گزرجاتا ہے تو اُس وقت اُس کے اطمینان اور سکون کی کوئی حد نہیں رہتی کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کے ہاتھوں میں چلا جاتا ہے اور اُس کی رضا اور محبت کا مقام اُسے حاصل ہوتا ہے ۔ مگر اس مقام کے حصول سے پہلے جن قربانیوں کی ضرورت ہے وہ ایسی ہیں کہ انسان ان میں ٹیسر کو بھول جاتا ہے عُسر آتا ہے اور ایسا شدید عُسر آتا ہے کہ انسان یہ سمجھنے لگتا ہے کہ اب ٹیسر اس پر کبھی آہی نہیں سکتا ۔ وہ خیال کرنے لگتا ہے کہ اس کی ترقیات کے تمام وعدے موہوم ہیں ۔ اور وہ گھبرا کر کہتا ہے کہ الہی ! تیری مدد کہاں گئی ۔ پس جب تک انسان ایسے عسر میں سے نہ گزرے کہ ترقیات کے تمام وعدے اسے موہوم نظر آئیں ، ایمان اسے کہتا ہو کہ ٹیسر آئے گا لیکن عقل اسے کہتی ہو کہ یہ سب خیالی باتیں ہیں ، اب یسر نہیں آ سکتا۔ جب تک انسانی عقل اور انسانی دانش صاف لفظوں میں اسے یہ نہ سنا دے کہ یہ سب جھوٹی باتیں ہیں ۔ صرف ایمان کہتا ہو کہ گو عقل اس بات کو ماننے سے انکار کرتی ہے کہ اتنے عُسر کے بعد ٹیسر بھی آسکتا ہے مگر میں جانتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کا وعدہ پورا ہو کر رہے گا ۔ اُسوقت اللہ تعالیٰ کی محبت کا اعلیٰ مقام انسان کو حاصل نہیں ہوتا ۔ یہی وہ عُسر کا مقام ہے کہ جب اس پر انبیاء اور ان کی جماعتیں پہنچتی ہیں تو وہ کہہ اُٹھتی ہیں کہ مَتی نَصْرُ الله اور خدا تعالیٰ قرآن مجید میں بیان کرتا ہے کہ جب خدا کے رسول اور انکی جماعتیں یہ کہتی ہیں کہ مَتی نَصْرُ اللهِ اے خدا! مقامِ نَصُرُ اللهِ کہاں ہے؟ اُس وقت ہم کہتے رہیں کہ اَلَا اِنَّ نَصْرَ اللهِ قَرِيب الخدا کی مدد تو قریب ہی ہے۔ اس سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ جب عُسر کا شدید دور آتا ہے اتنا شدید کہ نصر اللہ کا مقام انسان کی نگاہ سے غائب ہو جاتا ہے تب خدا تعالیٰ کی مدد آتی اور مؤمنوں کو مشکلات سے رہائی دیتی ہے۔ لیکن جب تک یہ مقام حاصل نہ ہو بلکہ مقام نَصْرُ اللہ ہر شخص کو نظر آ رہا ہو ، اُس وقت تک غیر معمولی مدد کس طرح آ سکتی ہے۔