خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 608 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 608

خطبات محمود ۶۰۸ سال ۱۹۳۵ء ہماری جماعت کے لئے بے شک پچھلے ایام میں ایسا طویل ابتلا آیا ہے کہ بہت سے لوگ یہ خیال کرنے لگ گئے تھے کہ نہ معلوم خدا تعالیٰ کی مدد کب آئے گی اور عام طور پر کہا جانے لگا تھا کہ اس حملے کا سلسلہ بہت لمبا ہو گیا ہے مگر کسی کو کیا معلوم تھا کہ خدا تعالیٰ نے اس فتنہ کا علاج امرتسر میں گوردوارہ پر بندھک کمیٹی کے پاس رکھا ہوا ہے جو مسجد شہید گنج کے انہدام کے سلسلہ میں ظاہر ہو گیا۔اور جس نے مسلمانوں پر ثابت کر دیا کہ احرار جو ہماری خدمت اسلام کے نام سے کر رہے تھے ، وہ جھوٹے تھے۔اسلام کے لئے قربانی کرنا ان کا طریق نہیں وہ تو اپنی ذاتی بڑائی کے لئے کام کرتے ہیں۔اور جب ذاتی بڑائی حاصل نہ ہوتی ہوتو وہ خدا تعالیٰ کے گھر کے لئے بھی قربانی کرنے کے لئے تیار نہیں۔لیکن پھر بھی یادرکھنا چاہیے کہ اس قسم کے ابتلا آئندہ بھی آتے چلے جائینگے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک الہام ہے جس میں اللہ تعالیٰ اپنے متعلق فرماتا ہے اُفطِرُ وَ اَصُومُ یعنی میری طرف سے سلوک دونوں رنگ کا ہو گا کبھی روزہ کی شکل میں اور کبھی افطاری کی صورت میں کبھی ابتلاؤں کا دروازہ کھول دیا جائیگا اور کبھی انعامات کا دروازہ کھول دیا جائیگا۔جس طرح سمندر میں لہریں اٹھتی ہیں اور پھر غائب ہو جاتی ہیں اسی طرح ابتلاء لہروں کی طرح آئیں گے۔کبھی اُن کی لہر اونچی چلی جائے گی اور کبھی نیچی ہو جائے گی یہی حال ترقیات کا ہو گا وہ بھی ایک رو کی کیفیت لئے ہوئے ہوں گی کبھی نمایاں ہو جائیں گی اور کبھی مخفی ہو جائیں گی۔پس بیشک یہ ابتلا ایسا تھا جس میں بہت سے لوگ گھبرا گئے اور وہ خیال کرنے لگے کہ نہ معلوم اب کیا ہو گا لیکن اللہ تعالیٰ ان ابتلاؤں کو ختم نہیں کرے گا بلکہ ان کا سلسلہ اُس وقت تک جاری رکھے گا جب تک ہماری جماعت کا خدا تعالیٰ سے ایسا تعلق پیدا نہیں ہو جاتا کہ اس کی زندگی خالص روحانی زندگی بن جائے اور ان ابتلاؤں کا آنا اس کے لئے ضروری نہ رہے۔میں اپنے نفس میں دیکھتا ہوں کہ میں نے اس فتنہ سے بہت کچھ سبق سیکھا ہے۔میں اپنے ارد گرد کے لوگوں کو دیکھتا ہوں تو محسوس کرتا ہوں کہ انہوں نے بھی اس فتنہ سے سبق سیکھا ہے اس طرح جماعت کے سینکڑوں لوگ ہیں جنہوں نے اس فتنہ سے بعض مفید سبق سیکھے مگر ایک یاد وسبق یاد کر لینے سے انسان امتحان میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔اللہ تعالیٰ اس کے بعد اور سبق ہمیں سکھائے گا اور پھر اور سبق ابتلاؤں کے ذریعہ سکھائے گا یہاں تک کہ الہی قرب کا مضمون ہمیں اچھی طرح یاد ہو جائیگا۔اور کوئی فتنہ ہمارے قدم میں لغزش پیدا نہیں کر سکے گا۔ابھی ہماری جماعت میں بہت لوگ ایسے ہیں