خطبات محمود (جلد 16) — Page 56
خطبات محمود ۵۶ سال ۱۹۳۵ء ہماری جانیں، ہماری عزتیں ، ہمارے مال سب کچھ خطرہ میں کیوں نہ ہوں لیکن اس کے نیچے نیچے فتنہ و فساد کئے بغیر انصاف کو قائم رکھتے ہوئے اور محبت کے جذبات کو کچلے بغیر اپنی حفاظت کے لئے اگر اب ہمیں سیاسیات میں دخل دینا پڑے تو اس کی ذمہ داری اسی پر ہوگی جسے یہ بات نا پسند ہومگر میں اپنی جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ ہر کام جائز حد تک کرو۔سرکاری ملازموں کو سیاسی معاملات میں دخل دینے کی ہرگز اجازت نہیں۔اگر کسی کو پتہ نہ بھی لگ سکے تو بھی خدا تعالیٰ ضرور دیکھتا ہے اور جو سر کاری ملازم ایسا کرے گا وہ مجرم ہو گا ہمیں اس کی امداد کی ضرورت نہیں۔اس کی اصل ذمہ داری خدمتِ دین ہے اسے چاہئے کہ اسے ادا کرے۔اس کے علاوہ میں انجمنوں کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ اگر وہ واقع میں بے چین ہیں جیسا کہ کہا جاتا ہے تو سب سے پہلے وہ علیحدہ انجمنیں بنائیں تا کوئی بددیانتی نہ ہو اور جب وہ بنالیں گی تو پھر اس سوال پر میں غور کروں گا کہ انہیں کس حد تک سیاسیات میں دخل دینے کی اجازت دی جاسکتی ہے۔میں نے بتایا ہے کہ وہ جذ بہ جس کے ماتحت میں اکیس سال تک کام کرتا رہا ہوں یہ الفاظ کہنے سے اب بھی مجھے روک رہا ہے اور اب بھی میں یہ کہتے ہوئے درد محسوس کرتا ہوں کہ الگ انجمنیں بناؤ۔میرے یہ کہنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ میں اپنے گزشتہ کئے پر پشیمان ہوں۔اب بھی مجھے یقین ہے کہ دنیا کے امن کی بنیاد برٹش امپائر (British Empire) پر ہے۔مذہبی طور پر بھی جیسا کہ پیشگوئیوں سے معلوم ہوتا ہے اور عقلی طور پر بھی میری یہی رائے ہے اور حکومت کے کسی بگاڑ کو میں ہمیشہ عارضی یقین کرتا ہوں۔برٹش ایمپائر بہت وسیع ہے اور بعض حکام کی زیادتیوں کی وجہ سے ساری امپائر کی خرابی ثابت نہیں ہوسکتی۔پھر سارے ہندوستان کے افسروں کا کیا قصور ہے ، پھر پنجاب کے بھی سارے صوبہ کے متعلق ہمیں ایسا کوئی تجربہ نہیں ہو ا صرف ضلع گورداسپور یا بعض اور مقامات کے افسر زیادتی کر رہے ہیں۔باقی اضلاع کے حکام کی جماعتیں تعریف ہی کرتی ہیں اس لئے یہ کہنے کا کسی کو حق نہیں کہ سارے کے سارے بگڑے ہوئے ہیں اس لئے میں اپنے گزشتہ کئے پر پشیمان نہیں ہوں۔میں جانتا ہوں کہ انگریز قوم میں خوبیاں ہیں اور اچھے افسران افسروں کو جن میں خرابیاں پیدا ہو رہی ہیں خود ہی دبادیں گے اور اس وجہ سے میں کوئی ایسی بات نہیں کرنا چاہتا کہ جس سے حکومت کے ساتھ ہمارے تعلقات ہمیشہ کے لئے منقطع ہو جائیں۔کانگرس اگر نان کو آپریشن چھوڑ دے تب بھی حکومت کے ساتھ اس کی