خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 599 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 599

خطبات محمود ۵۹۹ سال ۱۹۳۵ء گشت لگا کر معلوم کیا کرتا کہ اس کی رعایا کا کیا حال ہے۔ایک دفعہ جب وہ اسی طرح پھر رہا تھا تو وہ ایک گاؤں کی طرف نکل گیا جہاں پہنچ کر وہ اپنا رستہ بھول گیا اور اسے کچھ پتہ نہ لگتا تھا کہ وہ کدھر جائے۔راستہ کی تلاش میں اُس نے گلی میں اِدھر اُدھر دیکھنا شروع کیا کہ شاید کوئی سمجھدار آدمی مل جائے اور وہ اس سے راستہ دریافت کر سکے۔اتنے میں وہ کیا دیکھتا ہے کہ ایک گھر کے دروازہ کے آگے ایک آدمی متکبرانہ انداز میں کھڑا ہے اُس نے لاتیں چوڑی کی ہوئی ہیں اور چھاتی باہر نکالی ہوئی ہے اور اس طرح ادھر اُدھر دیکھ رہا ہے کہ گویا اُس کی حیثیت کا دنیا میں کوئی انسان نہیں۔بادشاہ آگے بڑھا اور چونکہ اُس شخص کا طرز فوجی تھا اس لئے بادشاہ فوراً سمجھ گیا کہ یہ کوئی سپاہی یا اسی حیثیت کا آدمی ہے قریب پہنچ کر بادشاہ نے دریافت کیا۔میاں سپاہی ! کیا تم بتا سکتے ہو کہ فلاں جگہ پہنچنے کے لئے کونسا رستہ ہے ؟ وہ اُس وقت پائپ پی رہا تھا۔جب اُس نے بادشاہ کی بات سنی تو متکبرانہ انداز میں اس نے ایک طرف اپنا منہ پھیر لیا۔پائپ کا دُھواں نکالنا شروع کر دیا اور نہایت حقارت سے جواب دیا میں سپاہی نہیں ہوں۔بادشاہ نے کہا اچھا معاف کیجئے گا مجھ سے غلطی ہوئی۔اس کے بعد اُس نے پھر کسی بڑے عہدے کا نام لیا اور کہا کیا آپ وہ ہیں؟ اُس نے اسی طرح منہ دوسری طرف موڑے رکھا اور کہا میں وہ نہیں ہوں ، اس سے بڑا افسر ہوں۔پھر اُس نے اور زیادہ اوپر کے عہدے کا نام لیا اور پوچھا کیا آپ وہ ہیں ؟ اس نے پھر کہا میں وہ نہیں ہوں۔اس سے بڑے عہدے کا نام لو۔مگر اس تمام عرصہ میں اس نے منہ دوسری طرف کئے رکھا۔آخر بادشاہ نے جب سارجنٹ یا وارنٹ آفیسر جو اُس کا عہدہ تھا اُس کا نام لیا تو اُس نے کہا۔ہاں۔بادشاہ نے چونکہ دریافت کرتے ہوئے فوجی عہدوں کا صحیح نام لیا تھا اس لئے اس سارجنٹ کے دل میں خیال پیدا ہوا کہ یہ بھی کوئی فوجی آدمی معلوم ہوتا ہے آؤ اس سے بھی دریافت کریں کہ وہ کون ہے؟ اس پر اُس نے پوچھا کیا تم بھی فوج سے تعلق رکھتے ہو؟ بادشاہ نے جواب دیا ہاں۔اُس نے پوچھا کیا تم سپاہی ہو؟ بادشاہ نے کہا ذرا اوپر چلئے۔پھر اس نے کسی اور عہدے کا نام لیا اور پوچھا کہ کیا آپ وہ ہیں؟ بادشاہ نے کہا اور اوپر چلئے۔اس کے بعد اُس نے اور عہدے کا نام لیا اور دریافت کیا کہ کیا آپ وہ ہیں؟ بادشاہ نے کہا اور اوپر چلئے۔آخر جب سپاہی اُس عہدہ پر پہنچا جو اُس کا اپنا تھا تو بادشاہ کی طرف منہ کر کے کھڑا ہو گیا کہ یہ شخص میرے برابر عہد ہ کا ہی معلوم ہوتا ہے۔مگر اس سوال کے جواب میں بھی جب بادشاہ نے کہا کہ ذرا اور اوپر