خطبات محمود (جلد 16) — Page 598
خطبات محمود ۵۹۸ (۳۷) سال ۱۹۳۵ء معاندین سے جنگ اُس وقت تک جاری رہے گی جب تک سیچ اور جھوٹ میں سے ایک قربان گاہ پر نہیں چڑھ جاتا۔ دین کیلئے مالی اور جانی قربانیاں اللہ تعالیٰ کی رحمت اور انعام ہیں فرموده ۱۱ اکتوبر ۱۹۳۵ء ) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد درج ذیل آیات کی تلاوت فرمائی ۔ أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ وَوَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَ الَّذِي أَنْقَضَ ظَهْرَكَ وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا فَإِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبُ وَإِلَى رَبِّكَ فَارْغَبُ پھر فرمایا :۔ سب سے بڑی نعمت ایک سمجھدار اور عقلمند انسان کے لئے یہ ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ کی آواز سننے اور اسے قبول کرنے کا موقع مل جائے ۔ دنیا میں معمولی معمولی افسروں کی صحبت جب لوگوں کو میسر آتی ہے تو وہ اس پر اترا جاتے اور فخر اور تکبر کے خیالات ان کے دلوں میں پیدا ہو جاتے ہیں ۔ اسی طرح تھوڑی بہت حکومت جب کسی انسان کو حاصل ہوتی ہے تو وہ خیال کر بیٹھتا ہے کہ نہ معلوم میں اب کیا سے کیا ہو گیا ہوں ۔ ایک مشہور تاریخی واقعہ ہے کہتے ہیں شاہانِ روس میں سے ایک زار بادشاہ اس بات کا عادی تھا کہ اپنا بھیس بدل کر رات کو یا دن کے مختلف وقتوں میں پھرا کرتا ۔ اور اس طرح