خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 588 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 588

خطبات محمود ۵۸۸ سال ۱۹۳۵ء مواقع پیش آئیں گے کہ اسلام کے سچے خادم بہت تھوڑے ہوں گے اور اسلام کی بہتری سے غفلت کرنے والے نام نہاد مسلمان یا بعض صورتوں میں ظاہر و باطن میں اسلام سے بیزار گفتار بڑی تعداد میں ان کے مقابل پر کھڑے ہوں گے اور ان کے کام میں روک بنیں گے پھر اُس وقت اسلام کے خادموں کے پاس ساز و سامان بھی کافی نہ ہوگا ۔ اور ان کے دشمن پوری طرح مسلح ہوں گے ۔ اور ہر قسم کا سامان ان کے پاس ہوگا ۔ خدام اسلام صرف دفاع کر رہے ہونگے اور ان کے دشمن ظالمانہ طور پر حملہ کر رہے ہوں گے۔ جیسے بدر کے موقع پر صحابہ کی نیت لڑائی کی نہ تھی مسلمان صرف مدینہ کی حفاظت کے خیال سے باہر گئے تھے اور بظاہر کوئی امید نہ تھی کہ جنگ ہو گی حتی کہ جب اللہ تعالیٰ کے منشاء کے ماتحت جنگ کے سامان ہوئے اور معلوم ہوا کہ اب جنگ سے سے گریز گریز کی کی کو کوئی صورت نہیں ہے ہے تو تو اُس وقت رسول کریم ﷺ نے مشورہ کیا ۔ آپ کو الہا ما بھی بتایا گیا اور ظاہری حالات سے بھی یہی معلوم ہوتا تھا کہ جنگ ہوگی ۔ اس لئے آپ نے صحابہ سے دریافت فرمایا کہ کیا تجویز ہے؟ اس پر مہاجرین نے کہا کہ يَا رَسُولَ اللهِ ! ہم پر بہت ظلم کئے گئے ، ہمیں گھروں سے نکالا گیا اور قتل کیا گیا اب کیا انتظار ہے، ہمیں اجازت دیں کہ لڑیں ۔ مگر آپ نے متوازن نے متواتر فرمایا کہ لوگو مشورہ دو۔ کئی مہاجر کھڑے ہوئے اور اس قسم کی باتیں کیں مگر آپ نے ہر ایک کے بعد یہی فرمایا لوگو ! مشورہ دو۔ انصار نے خیال کیا کہ کفار مہاجرین کے قریبی رشتہ دار ہیں ۔ کوئی کسی کا بھائی ہے کوئی باپ ، کوئی ماموں ، کوئی چچا ، کوئی پھوپھا، کوئی خالو، کوئی بہنوئی ، کوئی داماد و غیرہ اگر ہم نے کہا کہ ضرور لڑائی ہونی چاہئے تو مہاجرین یہ نہ سمجھیں کہ یہ ہمارے رشتہ داروں کو مارنا چاہتے ہیں ۔ وہ بُزدلی کی وجہ سے خاموش نہیں تھے بلکہ اخلاص کے باعث خاموش تھے وہ سمجھتے تھے کہ اگر ہم نے کہا ہماری تلواریں نیاموں میں تڑپ رہی ہیں تو مہاجر ہمارے متعلق یہ خیال نہ کریں کہ یہ ہمارے رشتہ داروں کو قتل کرنے پر خوش ہیں ، اس لئے وہ خاموش رہے مگر رسول کریم اللہ ان سے بھی مشورہ لینا چاہتے تھے کیونکہ ان سے معاہدہ یہی تھا کہ وہ کا منشاء مدینہ میں آپ کا ساتھ دیں گے لیکن ، مین مدینہ سے باہر نہیں ۔ اس لحاظ سے آپ چاہتے تھے کہ ان کا میں تا اگر وہ اپنے اس معاہدہ پر عمل کرنا چاہیں تو انہیں واپس بھیج دیا جائے اور اگر شامل ہوں تو آپ پر معاہدہ کی خلاف ورزی کا الزام نہ آ سکے اس ۔ نہ آسکے اس لئے آپ نے جب بار بار ۔ نے جب بار بار یہی فرمایا کہ لوگو ! مشورہ دو تو انصار نے خیال کیا کہ شاید رسول کریم ﷺ ہماری خاموشی کا مطلب نہیں سمجھے ۔ تب