خطبات محمود (جلد 16) — Page 575
خطبات محمود ۵۷۵ سال ۱۹۳۵ء ہدایت و راہنمائی کے لئے آخری شریعت نہ سمجھتے ہوں اور ان کے لئے یہ دعا کھی گئی تھی کہ وہ کہیں اے خدا ! ہم یقین اور وثوق سے کہتے ہیں کہ احمدی رسول کریم ﷺ پر ایمان نہیں رکھتے نہ آپ کو دل سے خاتم النبین سمجھتے ہیں اور آپ کی فضیلت اور بزرگی کے قائل نہیں بلکہ آپ کی توہین کرنے والے ہیں۔اے خدا ! اگر ہمارا یہ یقین غلط ہے تو ہم پر اور ہمارے بیوی بچوں پر عذاب نازل کر۔اس کے بعد احرار کا یہ کہنا کہ شرائط مباہلہ میں عورتوں اور بچوں کا شامل ہونا بھی ضروری ہے یا خود شامل ہونے سے احتراز کیا گیا ہے ، میں نہیں سمجھ سکتا اپنے اندر کیا مفہوم رکھتا ہے۔مباہلہ میں شامل ہونے والا اول وجود میرا ہوگا اور سب سے پہلا مخاطب میں اس دعوت مباہلہ کا اپنے آپ کو ہی سمجھتا ہوں اور نہ صرف میں خود مباہلہ میں شامل ہوں گا بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تمام بالغ اولاد جو آسانی سے جمع ہو سکتی ہو اس مباہلہ میں شامل ہو گی۔اور ہم میں سے ہر ایک اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرے گا کہ اے خدا ! ہم یقین رکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہرگز ہرگز رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک نہیں کی بلکہ آپ کی عزت کو دنیا میں قائم کیا۔اے خدا! اگر ہم اپنے اس دعوی میں جھوٹے ہیں تو تو ہم پر اور ہمارے بیوی بچوں پر اپنا عذاب نازل کر۔دوسرے لوگوں کو صرف زائد طور پر شامل کیا گیا ہے اور ان کے شامل کرنے کی کئی وجوہ ہیں جن میں سے ایک میں اس وقت بیان کرتا ہوں۔اول یہ کہ ہر مباہلہ کا نتیجہ ایسا گھلا اور روشن ہونا چاہئے اور اس کا اثر اتنا وسیع ہونا چاہئے کہ وہ اپنے اندر خاص اہمیت رکھے۔رسول کریم ﷺ نے بھی مباہلہ کا ارادہ کیا تو ایک قوم کے نمائندوں کے ساتھ۔لیکن احرار کو تو کسی نے اپنا نمائندہ قرار نہیں دیا۔یہ تو آپ ہی آپ آٹھ کروڑ مسلمانانِ ہند کے نمائندہ بن گئے ہیں جیسے پنجابی میں ضرب المثل ہے ” آپے میں رجی جی آپے میرے بچے جیون “ یہ بھی خود بخود اپنے آپ کو مسلمانوں کے نمائندے قرار دینے لگ گئے ورنہ کب یہ مسلمانوں سے ووٹ لینے گئے اور کب مسلمانوں نے ان کو اپنا نمائندہ سمجھا۔زیادہ سے زیادہ ان کی طرف سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ لوگ ہماری بیعت میں شامل ہوئے مگر ان کی بیعت کی حقیقت جو ہے وہ آجکل سب پر ظاہر ہوگئی ہے۔ہماری جماعت کو دیکھ لو، کتنی شدید مخالفت ہوئی مگر اتنی مخالفت کے باوجود کتنے ہیں جو بیعت سے پھرے۔اس کے مقابلہ میں ان کی بیعت کرنے والوں کا یہ حال ہے کہ یا تو مولوی عطا اللہ صاحب جلسہ میں کھڑے ہو کر جب اعلان کرتے کہ بیعت کے لئے ہاتھ کھڑے کر دو تو اکثر سامعین اپنے ہاتھ