خطبات محمود (جلد 16) — Page 567
خطبات محمود ۵۶۷ سال ۱۹۳۵ء تازہ واقعہ کی بناء پر بھی ہمیں ان پر غصہ ہے۔پس اگر کوئی شخص احرار کی اس دھوکا بازی کے خلاف لٹریچر شائع کرتا ہے اور ہم اس کی اشاعت میں مدد دیتے ہیں یا خریدتے ہیں تو اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہوسکتا۔اور ہمارے بعض آدمیوں نے ایسا لٹریچر خرید کر شائع کیا ہے یا اس کے شائع ہونے میں مدد دی ہے اور میں اسے بُر انہیں سمجھتا بلکہ میں اسے ایک قومی خدمت سمجھتا ہوں اور اگر کوئی آئندہ بھی ایسا کرے تو میں اسے درست سمجھونگا۔وہ حکومت جو احرار کے گندے لٹریچر کو جو ہمارے خلاف چھپتا رہا ہے روک نہ سکی ، اب اسے احرار کے خلاف لٹریچر شائع ہونا کیوں بُرا لگتا ہے۔مگر اس سے زیادہ ہماری جماعت کے افراد نے کچھ نہیں کیا اور یہ بالکل جھوٹ ہے کہ ہم نے لوگوں کو خریدا ہوا ہے۔اس الزام پر بھی میں لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ کہتا ہوں۔چوتھے میں سمجھتا ہوں کہ بغیر شورش اور فساد کے مسلمان مسجد کو واپس لے سکتے ہیں اور مجھے اس کا یقین ہے۔میں اس کے متعلق خاموش اس وجہ سے تھا کہ اگر میں بولا تو احرار کہہ دیں گے کہ دیکھا سب کچھ یہی کرا رہے ہیں۔اس پر لوگ بھڑک اُٹھیں گے اور اس تحریک کو نقصان پہنچے گا لیکن آج بھی اگر کام کرنے والے یہ اعلان کر دیں کہ احمدیوں کا ساتھ ملنا ہمارے کام کو نقصان نہیں پہنچا سکتا تو ہم اُن کی ہر جائز مدد کرنے کے لئے تیار ہیں۔صرف یہ ہو گا کہ قانون شکنی کی تحریک میں ہم شامل نہیں ہونگے ، باقی ہم ہر قسم کی مدد کریں گے۔خواہ وہ روپیہ کی ہو یا قانونی یا کسی اور رنگ کی۔اور مجھے کامل امید ہے کہ قانون کے اندر رہتے ہوئے اسے واپس لیا جا سکتا ہے اور احمد یہ جماعت اس کوشش میں ہر قسم کی مدد کرنے کو تیار ہے بشرطیکہ کام کرنے والوں کو اس پر کوئی اعتراض نہ ہو۔مسجد کے گرائے جانے پر ہمارے دلوں میں اس سے بہت زیادہ درد ہے جس کا میں نے اظہار کیا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ بجائے اس کے کہ ہم نے شورش کو پیدا کیا ہو ہمارے دلوں میں دُکھ ہے کہ احرار کی شورش کے خیال سے ہم اسقدر اس نیک کام میں حصہ نہیں لے سکے جس قدر حصہ ہم لے سکتے تھے۔ہم ڈرتے رہے ہیں کہ اگر ہم حصہ لے لیں گے تو احرار جھٹ شور مچادیں گے کہ اِس کام کو احمدی کروا ر ہے ہیں اور اس تحریک کو نقصان پہنچ جائے گا اور کئی لوگوں کو مسجد بھول جائے گی اور ہمارا بغض یاد آ جائے گا۔لیکن میں پھر کہتا ہوں کہ آج بھی اگر کام کرنے والے یہ اعلان کر دیں تو ہم ہر جائز مدد اور ممکن قربانی اس راہ میں کرنے کے لئے تیار ہیں۔مجھے معلوم ہے بعض جگہ احمدیوں نے کچھ کام کیا ہے اور بعض نے مجھے