خطبات محمود (جلد 16) — Page 557
خطبات محمود ۵۵۷ سال ۱۹۳۵ء صاحب ایڈووکیٹ ہائی کورٹ ، چوہدری اسد اللہ خان صاحب بیرسٹر اور مولوی غلام احمد صاحب مبلغ کو اپنا نمائندہ مقرر کرتا ہوں ۔ احرار کے لیڈر ان سے گفتگو کر سکتے ہیں اور اس گفتگو کے پندرہ روز بعد مباہلہ ہو جائے ۔ اُس دن میں اِنْشَاءَ اللہ لاہور پہنچ جاؤں گا ۔ اس کے بعد میں ایک اور جھوٹ کی قلعی کھولنا چاہتا ہوں جو ہمارے خلاف بولا جا رہا ہے اور وہ مسجد شہید گنج کی ایجی ٹیشن کے متعلق ہے ۔ اس میں احمدیوں کو تین صورتوں میں پیش کیا جارہا ہے ۔ ایک تو یہ کہا جاتا ہے کہ تمام فساد احمدیوں نے کرایا ہے انہوں نے مسلمانوں کے لیڈروں یعنی مولوی ظفر علی صاحب ، سید حبیب صاحب ، ملک لعل خانصاحب ، میاں فیروز الدین صاحب اور دوسرے کا رکنوں کو روپیہ دے کر خرید لیا اور یہ واقعہ شروع کرایا ۔ سو اول تو یہ بات عقلاً درست نہیں ہو سکتی ۔ اس لئے کہ اگر ہم مسلمانوں کے راہنماؤں کو خرید بھی لیتے تو بھی جب تک سکھوں کو نہ خریدا جاتا یہ واقعہ شروع نہیں ہو سکتا تھا۔ کیونکہ اگر سکھ مسجد کے گرانے کا فیصلہ نہ کرتے یہ لوگ کیا کر سکتے تھے ۔ پس مسلمان راہنماؤں کو خریدنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے سکھوں کو بھی خریدا اور انہیں کہا کہ وہ مسجد کو گرائیں تا کہ یہ مسلمان لیڈر مسلمانوں میں جوش پیدا کر سکیں ۔ پھر یہ بھی کافی نہیں ۔ اس سکیم کے پورا کرنے کے لئے یہ بھی ضروری تھا کہ ہم حکومت کو بھی خرید لیں کیونکہ اس فساد کے بڑھنے میں حکومت کی بعض غلطیوں کا بھی دخل ہے پس تسلیم کرنا ہوگا کہ ہم نے حکومت کو بھی آمادہ کیا کہ وہ غلطیاں کرے تا جوش پیدا ہو مگر یہ بھی کافی نہیں ۔ ان تینوں طاقتوں کے مل جانے سے بھی احرار کو کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا تھا ۔ اگر سکھ مسجد گراتے ، حکومت غلطیاں کرتی ، مسلمان لیڈر شور مچاتے لیکن احرار اسلام کی محبت کا نمونہ دکھاتے تو مسلمانوں میں ان کے خلاف جوش کس طرح پیدا ہو سکتا تھا ۔ پس یہ سکیم تب مکمل ہوتی تھی اگر ہم احرار کو بھی خرید لیتے اور ان سے کہتے کہ تم اس وقت خاموش رہنا تا کہ مسلمان تم کو دشمن اسلام اسلام سمجھ کر تمہارے مخالف ہو جائیں ۔ غرض اس الزام کے یہ معنی ہیں کہ ہماری طرف سے چار سو دے ہوئے تب جا کر یہ مسئلہ حل ہوا ۔ سکھ ، مسلمان ، گورنمنٹ اور خود احرار سب کو ہم نے خرید لیا لیکن اتنی باتوں کی بجائے یہ بھلے مانس اتنا کیوں نہیں مان لیتے کہ احمدیوں نے خدا تعالیٰ کے فضل کو خرید لیا۔ گو وہ ہمارا مالک اور آقا ہے مگر پھر بھی وہ کبھی سن کو اپنے بندوں کے سپر دبھی کر دیا کرتا ہے۔ یا پھر یوں کہہ لو کہ احمدیوں نے اپنے آپ کو خدا کے ہاتھ بیچ دیا اور ظاہر ہے کہ اپنی چیز کو کون ٹوٹنے دیا