خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 554 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 554

خطبات محمود ۵۴ (۳۴) سال ۱۹۳۵ء احرار کو مباہلہ کا چیلنج اور اس کی مزید تشریح مسجد شہید گنج کی خاطر جماعت احمد یہ ہر ممکن اور جائز قربانی کرنے کیلئے تیار ہے (فرموده ۶ رستمبر ۱۹۳۵ء) تشہد ، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔ صلى الله میں نے پچھلے خطبہ جمعہ میں یہ بتایا تھا کہ ہمیشہ سچائی کے منکر جھوٹ سے کام لیتے ہیں اور جب سچائی میں عیب معلوم نہیں کر سکتے تو عیب بناتے اور اختراع کرتے ہیں اور ان کو پھیلا کر سچائی کے حاملین اور متبعین پر اعتراضات کر کے انہیں بد نام کرتے ہیں ۔ میں نے دو باتیں بیان کی تھیں اور ان کے متعلق یہ تجویز بتائی تھی کہ اگر احرار یہ یقین رکھتے ہیں کہ ہم رسول کریم ﷺ کی ہتک کرتے ہیں تو وہ اس کے فیصلہ کے لئے دو میں سے ایک صورت اختیار کر سکتے ہیں یا تو وہ ان سینکڑوں، ہزاروں ہندوؤں اور سکھوں میں سے جن سے احمدیوں کو واسطہ پڑتا ہے اور وہ انہیں علیحدگی میں تبلیغ کرتے ہیں، پانچ سو یا ہزار چن کر انہیں اس کلام کی جس پر وہ ایمان رکھتے اور جسے مقدس سمجھتے ہیں قسم دیں کہ اگر وہ جھوٹ بو بولیں تو ان پر اور ان کے بیوی بچوں پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہو ۔ اور پھر ان ہو۔ سے دریافت کریں کہ احمدی علیحد گی میں اور تخلیہ میں ان سے جو گفتگو کرتے رہے ہیں ، اس سے رسول کریم کی ہتک ظاہر ہوتی ہے یا عزت؟ دوسری تجویز دونوں امور کے متعلق یہ تھی کہ مباہلہ کر لیں اور اس طرح اللہ تعالیٰ سے فیصلہ چاہیں ۔ اول اس پر کہ احمدی رسول کریم ﷺ کی بنک کرتے ہیں یا صلى الله عل وسم صلى الله عروسه عزت ؟ اور دوسرے اس پر کہ خانہ کعبہ کو بُرا کہتے ہیں اور اس کا احترام نہیں کرتے یا تمام دیگر مقامات