خطبات محمود (جلد 16) — Page 50
خطبات محمود ۵۰ سال ۱۹۳۵ء سے زیادہ گالیاں ملی ہوں۔اکیس سال کا عرصہ کوئی معمولی عرصہ نہیں جو میں نے اس بات کے لئے خرچ کر دیا کہ جماعت احمد یہ سیاسیات میں حصہ نہ لے اور اس قدر لمبے عرصے تک میں نے ان اصول کے لئے جو انگریز بھی جاری کرنا نہیں چاہتے اپنوں اور بیگانوں سے گالیاں کھائیں۔انگریزوں کا اصل یہ ہے کہ ملک میں ایجی ٹیشن (AGITATION) ہونی چاہئے۔میں نے حکام سے کئی دفعہ اس امر پر بحث کی ہے کہ یہ غلط پالیسی ہے میں نے سراڈ وائر (Sir O'Dwyer) پر اس کے متعلق زور دیا، سر میکلیکن پرزوردیا اور انہیں سمجھایا کہ جب تک یہ پالیسی ترک نہ کی جائے گی نہ امن قائم ہوسکتا ہے نہ انصاف۔حکومت کا اصل یہ ہونا چاہئے کہ سچ کیا ہے۔اگر کروڑوں آدمی جھوٹی ایجی ٹیشن کرتے ہیں اور ان کے مقابل پر صرف ایک ہے جو سچا ہے تو خواہ وہ کنگال ہی کیوں نہ ہو حکومت کو چاہئے کہ اس کی بات مانے۔جب حکومت کی طرف سے یہ کہا جائے گا کہ جب تک ایجی ٹیشن نہ ہو ، ہم نہیں مانیں گے ، اس وقت تک لوگ ضرور ایجی ٹیشن کرنے پر مجبور ہوں گے۔مگر مجھے اس کا جو جواب دیا جاتا رہا وہ یہی تھا کہ یہ بات ڈیموکریسی کے اصول کے منافی ہے۔پس اکیس سال کی زبر دست جد و جہد کے بعد میں آج یہ بات کہہ رہا ہوں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں اس اصل کو ترک کرتا ہوں۔میرا اصل ہمیشہ یہی رہے گا کہ سیاسیات سے جہاں تک ہو سکے جماعت کو الگ رکھوں اور اگر ہمیں اس میں دخل دینے کی ضرورت ہوئی تو اس کا یہ مطلب ہوگا کہ ہمیں مجبور ادخل دینا پڑا۔ہماری تعداد نہ سہی دس لاکھ، نہ سہی پانچ لاکھ، نہ سہی دو لاکھ ، چھپن ہزار ہی سہی مگر کیا چھپن ہزار انسانوں کی جانوں کی کوئی قیمت نہیں ہوا کرتی۔ہمارے بھی جذبات اور احساسات ہیں ، ہماری بھی بیویاں اور بچے ہیں اور آج ان کی جانیں خطرہ میں نظر آتی ہیں۔ہم نے سالہا سال تک مسلمانوں کی خدمت کی۔جب ان کے بھائی بند ملکا نے آریہ ہونے لگے تو ہم گئے۔اس زمانہ میں لاہور میں ڈھنڈورہ پٹوایا گیا کہ کہاں ہیں احمدی وہ خدمت اسلام کے دعوے کیا کرتے ہیں۔آخر ہمارے سینکڑوں آدمی وہاں گئے ہم نے لاکھوں روپیہ وہاں خرچ کیا اور ہماری کوششوں سے ہزار ہا ملکانے واپس ہوئے مگر اس سب خدمت کا نتیجہ کیا ہوا ؟ یہ کہ قادیان میں ایک جلسہ ہوا اور اس میں ایک مولوی نے بیان کیا کہ احمدی ہونے سے آریہ ہو جانا ہزار درجہ اچھا ہے اور یہ کہ اس نے ملکانوں کو جا کر بھی یہی کہا تھا کہ آریہ بے شک ہو جاؤ مگر احمدی نہ ہونا۔