خطبات محمود (جلد 16) — Page 540
خطبات محمود ۵۴۰ سال ۱۹۳۵ء دلوں میں واقعی رسول کریم ﷺ کی عظمت و محبت نہیں اور ہم آپ کو سارے انبیاء سے افضل و برتر یقین نہیں کرتے اور نہ آپ کی غلامی میں نجات سمجھتے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آپ کا ایک خادم اور غلام نہیں جانتے بلکہ درجہ میں آپ کو رسول کریم علیہ سے بلند سمجھتے ہیں تو اے خدا ! ہمیں اور ہمارے بیوی بچوں کو اس جہان میں ذلیل و رسوا کر اور ہمیں اپنے عذاب سے ہلاک کر۔اس کے مقابلہ میں وہ دعا کریں کہ اے خدا! ہم کامل یقین رکھتے ہیں کہ احمدی رسول کریم ﷺ کی تک کرتے ، آپ کی تحقیر و تذلیل پر خوش ہوتے اور آپ کے درجہ کو گرانے اور کم کرنے کی ہر وقت کوشش کرتے رہتے ہیں۔اے خدا! اگر ہمارا یہ یقین غلط ہے تو تو اس دنیا میں ہمیں اور ہمارے بیوی بچوں کو ذلیل ورسوا کر اور اپنے عذاب سے ہمیں ہلاک کر۔یہ مباہلہ ہے جو وہ ہمارے ساتھ کر لیں اور خدا پر معاملہ چھوڑ دیں۔پانچ سو یا ہزار کی تعداد میں ایسے علماء کا اکٹھا کرنا جو ہمارے سلسلہ کی کتب سے واقفیت رکھتے ہوں آٹھ کروڑ مسلمانانِ ہند کے نمائندہ کہلانے والوں کے لئے کوئی مشکل نہیں بلکہ معمولی بات ہے۔اور ہم تو ان سے بہت تھوڑے ہیں مگر پھر بھی ہم تیار ہیں کہ پانچ سو یا ہزار کی تعداد میں اپنے آدمی پیش کریں۔شرط صرف یہ ہے کہ جن لوگوں کو وہ اپنی طرف سے پیش کریں وہ ایسے ہوں جو حقیقت میں ان کے نمائندہ ہوں۔اگر وہ جاہل اور بیہودہ اخلاق والوں کو اپنی طرف سے پیش کریں تو ہمیں اس پر بھی کوئی اعتراض نہیں ہوگا بشرطیکہ وہ یہ تسلیم کر لیں کہ وہ ان کی طرف سے نمائندہ ہیں۔ہاں احرار کے سرداروں کے لئے ضروری ہو گا کہ وہ اس میں شامل ہوں مثلاً مولوی عطاء اللہ شاہ صاحب شامل ہوں ،مولوی حبیب الرحمٰن صاحب شامل ہوں ،مسٹر مظہر علی صاحب اظہر شامل ہوں ، چوہدری افضل حق صاحب شامل ہوں، مولوی داؤ دغزنوی صاحب شامل ہوں ، اور ان کے علاوہ اور لوگ جن کو وہ منتخب کریں شامل ہوں۔پھر کسی ایسے شہر میں جس پر فریقین کا اتفاق ہو یہ مباہلہ ہو جائے۔مثلا گورداسپور میں ہی یہ مباہلہ ہوسکتا ہے جس مقام پر انہیں خاص طور پر ناز ہے یا لاہور میں اس قسم کا اجتماع ہوسکتا ہے۔ہم قسم کھا کر کہیں گے کہ ہم پر اور ہمارے بیوی بچوں پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہو اگر ہم رسول کریم ﷺ پر کامل یقین نہ رکھتے ہوں ، آپ کو خاتم النبیین نہ سمجھتے ہوں ، آپ کو افضل الرسل یقین نہ کرتے ہوں اور قرآن کریم کو تمام دنیا کی ہدایت و راہنمائی کے لئے آخری شریعت نہ سمجھتے ہوں۔اس کے مقابلہ میں