خطبات محمود (جلد 16) — Page 541
خطبات محمود ۵۴۱ سال ۱۹۳۵ء وہ قسم کھا کر کہیں کہ ہم یقین اور وثوق سے کہتے ہیں کہ احمدی رسول کریم ﷺ پر ایمان نہیں رکھتے نہ آپ کو دل سے خاتم النبیین سمجھتے ہیں اور آپ کی فضیلت اور بزرگی کے قائل نہیں بلکہ آپ کی تو ہین کرنے والے ہیں۔اے خدا! اگر ہمارا یہ یقین غلط ہے تو ہم پر اور ہمارے بیوی بچوں پر عذاب نازل کر۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے خود بخود فیصلہ ہو جائے گا کہ کونسا فریق اپنے دعوئی میں سچا ہے، کون رسول کریم ﷺ سے حقیقی عشق رکھتا ہے اور کون دوسرے پر جھوٹا الزام لگا تا ہے مگر یہ شرط ہوگی کہ عذاب انسانی ہاتھوں سے نہ ہو بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوا اور ایسے سامانوں سے ہو جو خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کئے جاسکیں۔دوسرا اتہام جو میں نے چند دن ہوئے سنا ہے وہ یہ ہے کہ منصوری میں احراریوں کا ایک جلسہ مولوی عطا اللہ شاہ صاحب کی صدارت میں منعقد ہوا۔جس میں مسٹر حسام الدین صاحب ایک احراری نے جماعت احمدیہ کے خلاف لوگوں کو اشتعال دلاتے ہوئے کہا کہ اگر خانہ کعبہ کی اینٹ سے اینٹ بھی بجا دی جائے تو مرزائی لوگ اس کی کوئی پرواہ نہ کریں گے بلکہ خوش ہو نگے۔اس کے جواب میں بھی میں کہتا ہوں لَعْنَةُ اللهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ - خانہ کعبہ کی اینٹ سے اینٹ بجانا تو الگ رہی ، ہم تو یہ بھی پسند نہیں کر سکتے کہ خانہ کعبہ کی کسی اینٹ کو کوئی شخص بد نیتی سے اپنی انگلی بھی لگائے اور ہمارے مکانات کھڑے رہیں۔جس طرح رسول کریم اللہ کے زمانہ میں ایک صحابی کو جب کفار مکہ قتل کرنے لگے تو انہوں نے اُن صحابی سے پوچھا کہ کیا تمہارا دل نہیں چاہتا کہ تم اس وقت مدینہ میں آرام سے بیٹھے ہوتے اور محمد ( ﷺ ) کو تمہاری جگہ سزا دی جاتی۔اُس صحابی نے جواب دیا کہ تم تو یہ کہتے ہو کہ محمد ﷺ یہاں میری جگہ ہوں اور میں مدینہ میں آرام سے بیٹھا ہوں میں تو یہ بھی برداشت نہیں کر سکتا کہ میں اپنے گھر میں آرام سے بیٹھا ہوں اور محمد ﷺ کو مدینہ کی گلیوں میں چلتے ہوئے کوئی کانٹا عليه کچھ جائے۔اسی طرح ہم کہتے ہیں کہ ہمیں تو یہ بھی پسند نہیں کہ خانہ کعبہ کی طرف کوئی بدنیت اُنگلی بھی اُٹھائے اور ہمارے مکان کھڑے رہیں۔گجا یہ کہ ہم خانہ کعبہ کی اینٹ سے اینٹ بجتی دیکھیں اور خوش ہوں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہم قادیان کا احترام کرتے ہیں مگر کیا ایک چیز کے احترام کرنے کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ ہم دوسری چیز کا احترام نہیں کرتے۔کیا وہ شخص جو اپنے ماں باپ کا احترام کرتا ہے اُس کے احترام کے یہ معنی ہونگے کہ وہ رسول کریم ﷺ کا احترام نہیں کرتا۔یا جو شخص رسول کریم