خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 530 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 530

خطبات محمود ۵۳۰ سال ۱۹۳۵ء تحریک جدید کیلئے اس سال چندہ کی تحریک نہیں کروں گا اور وہ اس بناء پر بہت خوش ہوئے کہ اس تحریک سے چندہ عام کی ادائیگی میں سستی پیدا ہوگئی ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کارکن جماعت کے مستوں کا بوجھ محسوس کرنے لگ گئے ہیں لیکن میں نے گزشتہ سال یہ اعلان کر دیا تھا کہ اب میں کستوں کی پرواہ نہیں کروں گا اور جو مستعد ہیں اُن کو آگے لے جاؤں گا۔ہم سونے والوں کو جگائیں گے مگر جو نہیں جاگیں گے ان کو چھوڑتے جائیں گے۔پچھلے سال میں نے بتایا تھا کہ میں نے جس قربانی کا مطالبہ کیا ہے یہ بہت ہی کم ہے۔آئندہ کے لئے جو سکیم میرے مد نظر ہے وہ بہت بڑی قربانیوں کا تقاضا کرتی ہے اور اب یہی ہو گا کہ کمزوروں کے متعلق ہم یہی کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت کرے اور جو باقی ہیں ان کو آگے بڑھا لے جاؤں گا اور اس صورت میں خواہ دس آدمی بھی میرے ساتھ ہوں انجام کا رفتح انہی کی ہوگی۔پس ان معاملات میں اب میں نہ ناظروں کی پرواہ کروں گا نہ انجمن کی ، نہ افراد کی اور نہ جماعتوں کی اور نہ مشوروں سے کام کروں گا۔اب تو یہی ہے جو ہمارے ساتھ چل سکتا ہے چلے اور جو نہیں چل سکتا وہ پیچھے رہ جائے۔اس پوزیشن میں اب میں کوئی تبدیلی کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں حشی کہ فتح کا دن آجائے اُس وقت تک میں اب کسی کا لحاظ نہیں کروں گا۔لوگ کہتے ہیں کہ ڈرانا نہیں چاہئے مگر میں کہتا ہوں کہ جو ڈرنے والے ہیں وہ بے شک ڈر جائیں بلکہ میں تو یہ کہتا ہوں کہ تین سال کی شرط ہی ضروری نہیں ہممکن ہے کہ یہ تحریک مستقل ہی ہو اور اس سے بھی زیادہ قربانیوں کی ضرورت پیش آئے جو ان کو اپنے اوپر بوجھ سمجھتا ہے وہ الگ ہو جائے اب قربانیوں کا مطالبہ زیادہ سے زیادہ ہو گا اور جو اس کو بوجھ سمجھتا ہے وہ نہ اُٹھائے حتی کے جو انگلی اُٹھا کر بھی کوئی اعتراض کرے گا میں اسے جماعت سے علیحدہ کر دوں گا۔بیشک مشوروں میں میں اب بھی دوسروں کو شامل کروں گا لیکن کروں گا وہی جو مجھے خدا تعالیٰ سمجھائے کیونکہ اب جنگ کا زمانہ ہے جب کمانڈر انچیف وہی کرتا ہے جسے ضروری اور مناسب سمجھتا ہے اور بے ہودہ بحثوں میں وقت ضائع نہیں کرتا۔میں ڈرا تا نہیں ہوں لیکن جو ڈرتا ہے وہ بیشک ڈر جائے۔میں صرف یہ بتا تا ہوں کہ کمزور اگر چاہیں تو طاقت حاصل کر سکتے ہیں۔خدا تعالیٰ دُھویں کو نور میں تبدیل کر سکتا ہے۔اگر کسی کے دل میں خوف ہے یا وہ کمزوری محسوس کرتا ہے یا شکوک ہیں تو وہ مت سمجھے کہ نور حاصل نہیں کر سکتا۔اگر تمہارے