خطبات محمود (جلد 16) — Page 531
خطبات محمود ۵۳۱ سال ۱۹۳۵ء گرد گناہوں نے گھبرا کر لیا ہے تو خدا تعالیٰ کی طرف جھک جاؤ کیونکہ جو خدا تعالیٰ کی طرف جھکتا ہے خدا اسے مُردنی کی حالت میں نہیں رہنے دیتا۔یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ کوئی شخص خدا کی طرف جھکے اور خدا اسے پرے ہٹا دے۔یہ تو ایسی معمولی بات ہے کہ کوئی شریف آدمی بھی نہیں کر سکتا۔پس اگر کسی کے دل میں قربانی سے ڈر ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ قربانی کر ہی نہیں سکتا۔کسی کے پاس اگر روپیہ نہیں تو وہ ہاتھ سے مدد کر سکتا ہے۔اگر اس کی بھی طاقت نہیں تو زبان سے دعا کر سکتا ہے اگر زبان سے بھی دعا نہیں کر سکتا تو دل ہی دل میں دعا کر سکتا ہے۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ اگر کوئی بُرا کام دیکھے تو اسے ہاتھ سے روک دے، اگر ہاتھ سے نہ روک سکے تو زبان سے ہی منع کر دے اور اگر ی بھی نہ کر سکتا ہو تو دل میں ہی بُر امنائے۔وہ اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کے لئے سامان رکھے ہیں۔میں نے کہا تھا کہ جس کے پاس کچھ نہیں وہ دعائیں ہی کیا کرے۔پس اگر دل پر زنگ ہے تو یہ مت خیال کرو کہ وہ دُور نہیں ہو سکتا اپنے آپ کو دھواں بنا کر خدا تعالیٰ کے دروازے پر جا گرا ؤ اور مایوس مت ہو کہ جو مایوس ہوتا ہے وہ شیطان ہے۔فرشتوں نے بھی کہا تھا کہ آدم دنیا میں فساد پھیلائے گا مگر جب خدا نے کہا کہ سجدہ کرو تو وہ سجدہ میں گر گئے اور سجدہ دعا ہی ہے اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ مایوس نہ تھے اور سمجھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ اس کے نقصان سے دنیا کو بچا سکتا ہے مگر شیطان مایوس تھا اور اس نے سجدہ نہ کیا۔پس فرشتوں کی طرح خدا کے پاس برتن لے کر جاؤ۔پھر خدا تمہیں خالی ہاتھ نہ آنے دے گا۔( الفضل ۷ ۲ راگست ۱۹۳۵ء ) لا سیرت ابن ہشام جلد ا صفحه ۱۳۶،۱۳۵ مطبوعہ مصر ۱۲۹۵ھ ٹینٹوا : گلا۔ٹینٹواد بانا۔گلا گھونٹنا۔عاجز کرنا سخت تقاضا کرنا التوبه : ۴۰ ۴ سیرت ابن ہشام جلد ۲ صفحه ۱۸۹ مطبوعہ مصر ۱۲۹۵ھ ۵ سیرت ابن ہشام جلد ۲ صفحہ ۱۲۹،۱۲۸۔مطبوعہ مصر ۱۲۹۵ھ بخارى كتـاب الــمــغـــازى باب غزوة ذات الرقاع + شرح مواهب اللدنیہ جلدا۔صفحہ ۵۳۰۔مطبوعہ بیروت ۱۹۹۶ء تاریخ طبری جلد ۴ صفحه ۳۲۲ تا ۳۲۵۔بیروت ۱۹۸۷ء النور ٣٦: مسلم كتاب الايمان باب بيان كون النهي عن المنكر من الايمان