خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 47 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 47

خطبات محمود سال ۱۹۳۵ء کے پیدا ہونے کا امکان ہے۔جیسا کہ میں نے ایک گزشتہ خطبہ میں بیان کیا تھا میں جماعت کو قانون کی حدود سے بھی نیچے رکھتا ہوں جیسا کہ احرار کے جلسہ پر میں نے نصیحت کی تھی کہ خواہ تمہیں یا تمہارے کسی رشتہ دار کو مار بھی دیا جائے تمہیں ہاتھ نہیں اٹھانا چاہئے حالانکہ خود حفاظتی کے لئے ہاتھ اٹھانا قا نونا جائز ہے۔اگر کوئی شخص کسی کے گھر میں گھس جائے اور اس کا اسباب باہر پھینکنے لگے اور اسے کہے کہ نکل جاؤ تو قانون گھر والے کو اجازت دیتا ہے کہ اس سے لڑے اور اگر حملہ آور اپنی ضد پر قائم رہنے کی وجہ سے کوئی زیادہ نقصان بھی اٹھائے تو عدالت یہی فیصلہ کرے گی کہ گھر والا حق پر تھا اور حملہ آور ناحق پر۔تو با وجود اس کے کہ قانون دفاع کی اجازت دیتا ہے، اس کے علاوہ عقل اور مذہب بھی اس کی اجازت دیتے ہیں مگر میں نے یہی حکم دیا کہ خواہ مارے جاؤ ، ہاتھ ہر گز نہیں اُٹھانا۔اس سے میرا مقصد یہ بتا نا تھا کہ ہماری جماعت انتہاء درجہ کی انگیخت کے باوجود جذبات کو دبا سکتی اور دبا لیتی ہے۔پس اس وقت جو خواہش میں نے اپنی جماعت سے کی تھی وہ قانون کی پابندی سے بھی زیادہ پابندی عائد کرتی تھی۔میں نے دسمبر کے پہلے خطبوں میں سے کسی میں بیان کیا تھا کہ ہماری جماعت ایک مذہبی جماعت ہے اور مذہبی جماعت ہونے کے لحاظ سے ہماری انجمنیں خالص مذہبی کاموں کے لئے بنائی گئی ہیں اور میری فطرت یہ پسند نہیں کرتی کہ ہم کوئی ایسا کام کریں جو دھوکا بازی ہو۔یعنی جو انجمنیں مذہبی کاموں کے لئے بنائی گئی ہیں وہ سیاسی امور میں دخل دیں۔ان انجمنوں میں سرکاری افسر اور معمولی ملازم بھی ہیں ، ریاستوں کے لوگ بھی ہیں اس لئے کوئی ایسا کام کرنا جسے اخلاق اور شریعت ناجائز قرار دے، درست نہیں ہوسکتا۔پس میں جماعت کو ہمیشہ نصیحت کرتا رہا ہوں کہ قانونی حدود کے اندر رہنے کے علاوہ وہ یہ احتیاط بھی کریں کہ سیاسی امور سے بھی علیحدہ رہیں تا دیانت کا اعلیٰ معیار پیش کر سکیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومت کے بڑے اور چھوٹے ملازم سب میں سے ایک طبقہ سیاسیات میں دخل دیتا ہے۔کئی ہندوستانی افسر ہیں جو کانگرسیوں کو بلاتے ، چندے دیتے اور انہیں حکومت کے خلاف اکساتے ہیں مجھے ایک کانگریسی لیڈر نے بتایا کہ ایک ہندوستانی حج اپنی تنخواہ کا بیشتر حصہ کانگرس کو بطور چندہ دیتا ہے تا اس سے ان مسلمان مولویوں کو تنخواہیں دی جائیں جو مسلمانوں کو ورغلانے کیلئے کانگرس نے رکھے ہوئے ہیں۔میں نے اس امر کے متعلق ایک دفعہ دوران گفتگو میں