خطبات محمود (جلد 16) — Page 46
خطبات محمود ۴۶ سال ۱۹۳۵ء شریعت، قانون ، اخلاق اور دیانت کے خلاف کوئی بات نہ کی جائے فرموده ۱۸/جنوری ۱۹۳۵ء) تشہد ، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :۔میں گلے اور سر درد کی وجہ سے اونچی آواز سے نہیں بول سکتا مگر پھر بھی کوشش کروں گا کہ آواز دوستوں تک پہنچ جائے۔میں آج اس اعتراض کا جواب دینا چاہتا ہوں جو کئی لوگ کرتے ہیں کہ ہمارے خلاف منافرت کا جذبہ آج کل اس شدت سے پھیلایا جا رہا ہے کہ اس کے نتیجہ میں ہندوستان کی مختلف احمد یہ جماعتوں کے لئے امن اور آرام سے رہنا مشکل ہو گیا ہے۔کہیں ہم لوگوں کا بائیکاٹ کیا جا رہا ہے، کہیں مارا اور پیٹا جارہا ہے، کہیں گالیاں دی جاتیں اور بد زبانی کی جاتی ہے اور بھی کئی قسم کے دکھ دیئے جاتے ہیں مگر ہماری طرف سے سوائے خاموشی کے اور کچھ جواب نہیں ہے۔خاموشی سے مراد یہ ہے کہ بے شک وہ سکیم جو میں نے بتائی ہے اس کی طرف جماعت کی توجہ ہے لیکن بعض دوستوں کی رائے ہے کہ سکیم کا طریق اصلاح بالکل اور قسم کا ہے اور ہمارے ملک کی حالت اس قسم کی ہے اور اتنی جلدی جلدی بدل رہی ہے کہ جب تک گورنمنٹ کو زور سے توجہ نہ دلائی جائے اور عارضی اصلاح کا انتظام نہ کیا جائے ، بیرونی جماعتوں کے لئے خصوصاً چھوٹی جماعتوں کے لئے نہایت خطرناک صورت