خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 485 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 485

خطبات محمود ۴۸۵ سال ۱۹۳۵ء رستہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے دنیا میں کامیابی کے لئے دو طریق رکھے ہیں ایک تقدیر کا اور ایک تدبیر کا۔جب اللہ تعالیٰ کسی انسان کو دنیا میں بھیجتا ہے تو اس کے لئے یہ دونوں چیزیں رکھتا ہے۔اس کے چھوٹے چھوٹے کاموں میں برکت دیتا ہے اور دنیا سمجھتی ہے اس کی تقدیر اچھی ہے۔پھر اسے عقل و فہم عطا کرتا ہے اور لوگ سمجھتے ہیں یہ اچھا مدبر ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہم کو قانون کے احترام کا حکم دیا ہے اس لئے ہم میں سے ہر ایک سوائے سرکاری ملازموں کے اور سوائے ایسے لوگوں کے جن کے حکومت کے ساتھ تعلقات کی نوعیت مانع ہو تدبیر کی تلوار چلا سکتا ہے اور اگر خدا تعالیٰ پر تو کل ہو تو خدا تعالیٰ اس میدان میں بھی ہمیں ایسی ترقی دے سکتا ہے جو دوسروں کو حاصل نہیں ہوتی۔جو لوگ اخلاص سے اللہ تعالیٰ کے بندے بن جاتے ہیں ، ان کی عقلیں بھی تیز ہو جاتی ہیں۔باوجود اس کے کہ مکہ تعلیم میں پیچھے تھا مگر پھر بھی وہاں پڑھے لکھے لوگ موجود تھے لیکن رسول کریم ﷺے بالکل ان پڑھ تھے ، پھر مکہ میں ایسے لوگ بھی موجود تھے جو دیگر ادیان کے متعلق واقفیت رکھتے تھے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس قسم کی بھی کوئی واقفیت نہ تھی ، مگر جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس مقام پر کھڑا کیا جس کا دنیا کو مدت سے انتظار تھا تو آپ کو ایسی فراست اور عقل عطا کی کہ آج بھی ساری دنیا آپ کے علوم کو دیکھ کر حیران ہوتی ہے۔آپ نے فنونِ جنگ میں تعلیم میں ، تربیت میں علم النفس میں ، تجارتی امور میں ایسی اصلاحات فرمائی ہیں اور چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی باتوں میں ایسی تعلیم دی ہے کہ دنیا دنگ ہے۔آجکل تجارت میں سب سے زیادہ زور ریکارڈ اور رسیدوں پر دیا جاتا ہے لیکن یہ تعلیم آج سے ساڑھے تیرہ سو سال قبل رسول کریم ﷺ نے دی تھی اور قرآن کریم میں موجود ہے۔آج کہا جاتا ہے کہ عورتوں کی تعلیم کے بغیر ملک ترقی نہیں کر سکتا لیکن رسول کریم ﷺ نے اس پر اتنا زور دیا کہ فرمایا جس شخص کی دولڑکیاں ہوں اور وہ ان کو تعلیم دلائے اور اچھی تربیت کرے اللہ تعالیٰ اسے جنت میں گھر عطا کرے گا۔سے غرض جتنی باتیں دنیا کی ترقی کے لئے ضروری ہیں ، سب اسلام میں موجود ہیں اور جو باتیں مضر سمجھی جاتی ہیں ، ان سے اجتناب کا حکم ہے۔غور کرو رسول کریم ﷺ کو یہ علوم کہاں سے حاصل ہوئے ؟ خدا تعالیٰ کے سوا کسی نے آپ کو یہ نہیں سکھائے کیونکہ دُنیوی طور پر تو آپ دستخط کرنا بھی نہ جانتے تھے۔پس یا درکھو اگر خدا تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے اس کام کو کرو گے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہیں