خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 44 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 44

خطبات محمود سال ۱۹۳۵ء لیتی ہے۔پس اگر کوئی مبلغ ایسا ہے تو وہ مبلغ نہیں بلکہ اپنے دین اور ایمان سے تمسخر کرنے والا ہے۔پھر عام طور پر شکایت آتی ہے کہ ہمارے مبلغ اکثر انہی مقامات میں جاتے ہیں جہاں پہلے سے احمدی موجود ہوں حالانکہ رسول کریم ﷺ کا طریق عمل یہ تھا کہ آپ غیر قوموں کے پاس جاتے اور انہیں تبلیغ اسلام کرتے۔یہ نقص اسی وجہ سے واقع ہوا ہے کہ ہمارے مبلغوں میں وسعت خیال نہیں۔میرا یہ مطلب نہیں کہ مبلغین میں کوئی خوبی نہیں ان میں خدا تعالیٰ کے فضل سے اچھے اچھے مخلص ہیں اور جس قربانی کا بھی ان سے مطالبہ کیا جائے ، اسے پورا کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔چنانچہ طالب علموں کے اخلاص کا جو میں نے ابھی ذکر کیا ہے اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہمارے مبلغین اللہ تعالیٰ کے فضل سے کس قد را خلاص رکھتے ہوں گے۔مگر ان کے یہ جو ہر پوشیدہ رکھے گئے ہیں اور انہیں تراشا اور بنایا نہیں گیا۔پس ذمہ دار کارکنوں کو میں توجہ دلاتا ہوں کہ طالب علموں کے اندر وسعت خیال اور علو ہمت پیدا کرو۔تمام قسم کی دیواروں سے نکال کر انہیں کھلی ہوا میں کھڑا کر دو۔اور ان کے ذہنوں کو بجائے مباحثات کی طرف لگانے کے دنیا کی روحانی، اخلاقی اور تمدنی ضروریات اور ان کے علاج کی طرف لگاؤ۔پس اس خطبہ کے ذریعہ جہاں میں پروفیسروں ، ذمہ دار کارکنوں اور صدر انجمن کو طلباء جامعہ کی طرف توجہ دلاتا ہوں ، وہاں جماعت سے بھی کہتا ہوں کہ وہ اپنے ایمان کا معیار صرف یہ نہ سمجھ لے کہ اس نے تحریک جدید میں حصہ لے کر میرے مطالبہ کو پورا کر دیا۔بلکہ ہر جماعت کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے چندوں کی باقاعدہ ادا ئیگی کی طرف توجہ کرے اور ہر جماعت کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے اپنے بقائے پورے کرے۔اس کے علاوہ جماعت کا ہر فرد یہ کوشش کرے کہ وہ اپنی زندگی کا ایک حصہ خدمت سلسلہ کے لئے وقف کر دے اور اگر اسلام کی طرف سے دوسری آواز اٹھے تو وہ اپنا سارا وقت خدمت اسلام پر لگانے کے لئے کمر بستہ رہے۔یاد رکھو بغیر جانوں کی قربانی کے یہ سلسلہ ترقی نہیں کر سکتا۔چونہ اور قلعی سے مکان نہیں بنا کرتا بلکہ مکان اینٹوں سے بنتا ہے۔اسی طرح الہی سلسلے روپوں کے ذریعہ نہیں بلکہ جانوں کو قربان کرنے کے بعد ترقی کیا کرتے ہیں۔میں امید کرتا ہوں کہ ہمارے دوست اس ماحول کو سمجھنے کی کوشش کریں گے اور ہر قسم کی افسردگی کو اپنے دلوں سے دور کر کے سلسلہ کی ضروریات کو سمجھتے ہوئے اس اخلاص کے ساتھ جس کے متعلق مجھے یقین ہے کہ پیدا ہو چکا ہے، اس ایمان کے ساتھ جس کے متعلق مجھے یقین ہے کہ پیدا ہو چکا