خطبات محمود (جلد 16) — Page 466
خطبات محمود ۴۶۶ سال ۱۹۳۵ء دے رہا ہے اور مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ گویا ہر فتنہ کی موجودگی میں اس کا مقابلہ کرنے کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے میرے جسم میں ایک نئی طاقت ، نئی ہمت ، نیا ولولہ اور نیا جوش داخل کر دیا جاتا ہے اور اب موجودہ مشکلات کا مقابلہ کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے میرے اندر اتنی ہمت پیدا کر دی ہے کہ میں آج کل اپنے آپ کو کئی سال پہلے سے بہت زیادہ مضبوط جوان محسوس کرتا ہوں ۔ بیماریاں وہی ہیں جو پہلے تھیں مگر میرے ارادہ اور میری ہمت اور میرے عزم میں اتنا عظیم الشان تغیر ہو گیا ہے کہ میں اسے الہی فیضان سمجھتا ہوں اور میں یقین رکھتا ہوں کہ ہر مخلص احمدی کی یہی حالت ہوگی ۔ کئی بڑھے جو اپنے متعلق یہ سمجھتے تھے کہ اب ان کی موت کا وقت قریب ہے اور اب وہ کیا کام کر سکتے ہیں وہ سمجھتے ہوں گے کہ ہم جوان ہیں اور ہم نے ابھی دنیا میں بہت بڑا کام کرنا ۔ بڑا کام کرنا ہے ۔ یہ کتنا بڑا فا کا کتنا بڑا فائدہ ہے جو ان متواتر حادثات کی وجہ سے ہمیں حاصل ہوا ۔ اس میں شبہ نہیں کہ جسمانی طور پر انسان عمر کے زیادہ ہو جانے سے کمزور ہو جاتا ہے مگر انسان کی عمر وہ نہیں جو اسے پچاس، ساٹھ یا سو سال حاصل ہوئی بلکہ اگر ایک فتنہ ہم میں نئی ہمت اور نئی روح پیدا کر دیتا اور ہمارے کاموں میں برکت رکھ دیتا ہے اور جو کام بھی ہم کرتے ہیں اس کے نتائج نہایت شاندار نکلتے ہیں تو سوال یہ نہیں کہ ہم پچاس سال جیئے یا ساٹھ سال یا سو سال زندہ رہے بلکہ دیکھا یہ جائے گا کہ اس کام نے ہماری حقیقی زندگی بڑھادی عمر ان سالوں کا نام نہیں جنہیں انسان رائیگاں کھو دیتا ہے بلکہ عمر وہ ہے جسے انسان کسی مفید کام میں لگاتا اور لوگوں کے لئے اپنے آپ کو نفع رساں بناتا ہے۔ اگر ہماری پچاس سالہ زندگی میں وہ کام ہو جائے جو کوئی دوسرا دو ہزار سال میں کرے تو حقیقتاً ہماری عمر دو ہزار سال ہوگی نہ کہ پچاس سال ۔ پس میں سمجھتا ہوں کہ ان فتن کی وجہ سے ہماری جماعت کے ہزار ہا افراد کے قلوب میں نئی ہمت ، نیا ولولہ اور نئی امنگیں اور نیا جوش پیدا ہو گیا ہے اور اس طرح اخلاقی اور روحانی لحاظ سے ہماری جماعت کے پہلے سے کئی گنے زیادہ افراد ہو گئے ہیں ۔ اگر ایک شخص اپنے اندر تین آدمیوں کی طاقت محسوس کرتا ہے تو وہ ایک نہیں رہا بلکہ تین ہو گئے ۔ اور اگر کوئی شخص اپنے اندر دس آدمیوں کی طاقت محسوس کرتا ہے تو وہ ایک نہیں رہا بلکہ دس ہو گئے اور اگر کوئی اپنے اندر سو آدمیوں کی طاقت محسوس کرتا ہے تو وہ ایک نہیں رہا بلکہ سو ہو گئے ۔ اور اس طرح ہماری جماعت اخلاقی لحاظ سے پہلے سے کئی گنا زیادہ ہو گئی ہے ۔ پھر دینی رنگ میں کوئی بتائے کہ کیا ان مشکلات کی وجہ سے ہماری حوصلہ شکنی