خطبات محمود (جلد 16) — Page 40
خطبات محمود ۴۰ سال ۱۹۳۵ء اٹھتیں اور تم ان کی بہبودی کے لئے کوششیں کرتے۔مگر تم دنیا کے حالات سے آنکھیں بند کئے ہوئے ہو۔اور جیسے ترکوں کے حرم مشہور ہیں اسی طرح طالب علموں کو حرم بنا کر رکھ دیا گیا ہے۔پس جہاں ایک طرف مجھے خوشی ہوئی کہ لڑکوں میں اخلاص پایا جاتا ہے بلکہ بعض کا اخلاص تو ایسا تھا جو دلوں پر رقت طاری کر دیتا اور وہ اپنی مثال آپ تھا۔مگر وہ ان بے بس قیدیوں سے مشابہت رکھتے تھے جن کے ہاتھ پاؤں جکڑ دیئے جائیں اور وہ مرنے کے لئے تو تیار ہوں مگر انہیں یہ معلوم نہ ہو کہ اپنی جان کو کس طرح بچایا جا سکتا ہے۔لیکن مؤمن کو خدا تعالیٰ نے اس لئے تو پیدا نہیں کیا کہ وہ مر جائے بلکہ اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ خود بھی زندہ رہے اور دوسروں کو بھی زندہ رکھے۔نپولین کے گارڈز کی مثال میں نے کئی دفعہ سنائی ہے کہ ایک جنگ میں ان کا سامان ختم ہو گیا۔لوگوں نے انہیں کہا کہ میدان سے بھاگتے کیوں نہیں۔تو انہوں نے کہا کہ نپولین نے ہمیں بھا گنا سکھایا نہیں۔اگر میں ان طالب علموں سے کہتا کہ جاؤ اور آگ میں کود پڑو تو وہ آگ میں کودنے کے لئے تیار تھے۔اگر میں انہیں کہتا کہ سمندر میں کود جاؤ تو وہ سمندر میں بھی کو دنے پر تیار تھے۔مگر وہ آگ سے نکلنے کا راستہ نہیں جانتے اور نہ سمندر میں تیرنے کا مادہ ان میں ہے حالانکہ جب میں لوگوں سے کہتا ہوں کہ مر جاؤ تو اس کا یہ مطلب تو نہیں ہوتا کہ اس کا نتیجہ تمہاری موت ہوگا کیونکہ مؤمن کو خدا کبھی ہلاک نہیں کرتا۔اور مؤمن کی جان سے زیادہ اور کوئی قیمتی چیز اللہ تعالیٰ کے نزدیک نہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو اس سے زیادہ صدمہ اور کسی وقت نہیں ہوتا جتنا ایک مؤمن بندے کی جان نکالتے وقت اُسے ہوتا ہے۔اے پس مؤمن کی جان تو اتنی قیمتی چیز ہے کہ اس کے نکلنے سے عرشِ الہی بھی کانپ اٹھتا ہے۔اور گو مؤمن کو خدا ہلاک کرنے کے لئے پیدا نہیں کرتا مگر مؤمن کا یہ فرض ضرور ہوتا ہے کہ وہ اپنی جان دینے کے لئے تیار رہے۔ہاں اپنی تدبیروں کو وسیع رکھے اور نہ صرف اپنی جان بلکہ ہزاروں جانوں کو بچانے کے خیالات اس کے دل میں سمائے رہیں۔پس میں جہاں جماعت کو قربانیوں کی طرف توجہ دلاتا ہوں ، وہاں ذمہ دار کارکنوں اور صدرانجمن کو بھی توجہ دلاتا ہوں کیونکہ ان پر بھی بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور وہ بھی اسی طرح ان طالب علموں کے خون میں شریک ہے جس طرح جامعہ کے پروفیسر اور اساتذہ اس میں شریک ہیں۔صد را انجمن محض ریزولیوشنز پاس کر دینے کا نام نہیں ، نہ صدر انجمن اس امر کا نام ہے کہ کسی صیغہ کے