خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 419 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 419

خطبات محمود ۴۱۹ سال ۱۹۳۵ء افسروں کے رویہ پر بھی ۔ ہمیں انگریز افسروں پر اعتماد ہے لیکن چونکہ ضلع گورداسپور کی فضا اس وقت بگڑی ہوئی ہے اس لئے ہم چاہتے ہیں کہ اسوقت جس قدر افسر یہاں بڑے ہیں خواہ انگریز خواہ ہندوستانی ان کو بدلا جائے تا نئی فضا پیدا ہو یہ درخواست وفد کے ذریعہ سے حکومت پنجاب سے کی جائے ۔ اگر وفد کو وہ منظور کرے تو فبھا اور اگر اسے منظور نہ کرے تو سمجھ لیا جائے کہ ہم نے پنجاب گورنمنٹ سے جس قدر کوشش کرنی تھی وہ ختم ہو گئی ہے۔ ہمارے مطالبات کو رڈ کرنے کی دو ہی صورتیں ہو سکتی ہیں یا تو حکومت وفد کو ہی منظور نہ کرے گی یا پھر کوئی معین جواب نہ دے گی جیسا کہ آج تک ہوتا رہا ہے لیکن وفد کا فرض ہونا چاہئے کہ وہ وہاں سے معین جواب لئے بغیر یا اس کے لئے تاریخ معین کرائے بغیر نہ ہلے ۔اس کے بعد حکومتِ ہند کے پاس جانا چاہئے مگر یہ بعد کی باتیں ہیں ۔ میں اس کی تفاصیل بعد میں بیان کروں گا فی الحال یہی کیا جائے اس پر بھی کچھ وقت لگے گا ۔ ذمہ دار کار کن فوراً یہ مطالبے حکومت کو پیش کریں ۔ اوّل تو یہ کہ ان افسروں کو فوراً بدل دیا جائے اور دوسرا یہ کہ کوئی انگریز جج بطور کمیشن مقرر کیا جائے جو تحقیقات کرے کہ گزشتہ کارروائیوں میں احمدی ظلم کر رہے ہیں یا جائے ان پر ظلم کیا جا رہا ہے اس میں سیشن جج کے فیصلہ میں ہم پر عائد کردہ الزامات کی بھی تحقیقات ہو جا گی ۔ اگر حکومت کے بعض افسروں کی غفلت ہو تو اس کی بھی تحقیقات کی جائے ، احمدیوں کے رویہ کی بھی اور احراریوں کی بھی ہو یہ دو مطالبات ہیں اگر حکومت پنجاب توجہ نہ کرے تو حکومت ہند سے توجہ کی درخواست کی جائے ۔ اگر حکومت انکار کر دے گی تو ہمارا یہ حق نہیں کہ کہیں اس نے شرارت کی ہے ہاں یہ کہہ سکتے ہیں کہ موجودہ حالات میں ہم اس پر حق واضح نہیں کر سکے سوائے اس کے کہ خاص افراد کے متعلق ہمیں معلوم ہو کہ انہوں نے فرض شناسی سے کام نہیں لیا ہاں یہ خیال مت کرو کہ حکومت ہند ، حکومت پنجاب کے معاملات میں دخل نہیں دے سکتی۔ میں گزشتہ واقعات سے ثابت کر سکتا ہوں کہ وہ دخل دے سکتی ہے اور دیتی رہی ہے ۔ پھر یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ قتل کے کتنے مقدمات کی اپیلیں پر یوی کونسل میں کی جاتی ہیں حالانکہ وہ کبھی دخل نہیں دیتی اور آج تک کبھی نہیں دیا ۔ وہ کہتے ہیں ہم قانون کے نگران ہیں ، عدالت اپیل نہیں ہیں ، ہم اس بات کے نگران ہیں کہ قانون میں غلطی نہ ہو مگر باوجود اس کے ہزاروں لوگ بڑے بڑے اخراجات برداشت کر کے بھی وہاں اپیلیں کرتے ہیں ۔ پھر سلسلہ کے متعلق ہم بھی کیوں نہ ایسا ہی خیال کریں کہ شاید حکومت ہند دخل دے دے ۔ بالخصوص جبکہ